
تلنگانہ: کریم نگر میں بڑی ڈکیتی، مسلح ڈاکو 66 تولہ سونا، 21 لاکھ روپے نقد اور دو بائک لوٹ کر فرار
نقاب پوش مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوگئے اور عظمت علی کو قابو کر لیا۔
تلنگانہ/کریم نگر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) ضلع کریم نگر کے بھگت نگر علاقے میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک سنسنی خیز ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں مسلح ڈاکوؤں نے ایک گھر میں گھس کر اہلِ خانہ کو یرغمال بنایا، تشدد کا نشانہ بنایا اور 66 تولہ سونا، 10 تولہ چاندی، 21 لاکھ روپے نقد، دیگر قیمتی سامان اور دو موٹر سائیکلیں لوٹ کر فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق واردات رات تقریباً 12:30 بجے اس وقت پیش آئی جب گھر کے مالک عظمت علی سونے سے قبل راہداری کی لائٹ بند کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکلے۔ اسی دوران پہلے سے گھات لگائے بیٹھے تقریباً چھ سے آٹھ نقاب پوش مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوگئے اور عظمت علی کو قابو کر لیا۔
ملزمان نے مبینہ طور پر فرضی پستول کے بٹ سے عظمت علی اور ان کی اہلیہ پر حملہ کیا، جس سے دونوں معمولی زخمی ہوگئے،ان کے منہ پر ٹیپ چپکا دی گئی اور ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے۔ ڈاکوؤں نے گھر میں موجود دیگر افراد، جن میں دونوں بیٹیاں بھی شامل تھیں، کو چاقو اور اسلحہ دکھا کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں تاکہ کوئی مزاحمت نہ کر سکے۔
66 تولہ سونا، 21 لاکھ نقد اور چاندی لوٹ لی
ڈاکوؤں نے گھر کی تلاشی لینے کے بعد 66 تولہ سونے کے زیورات، 10 تولہ چاندی کے زیورات، 21 لاکھ روپے نقد اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا۔ فرار ہونے سے قبل انہوں نے اہلِ خانہ کے موبائل فون بھی اپنے قبضے میں لے لیے تاکہ وہ فوری طور پر پولیس یا رشتہ داروں سے رابطہ نہ کر سکیں۔
واردات کے بعد تمام افراد کو ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور ملزمان گھر کی گراؤنڈ فلور پر کھڑی دو موٹر سائیکلیں بھی ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔
شمالی ہندوستانی لہجے میں ہندی بول رہے تھے
متاثرہ خاندان نے پولیس کو بتایا کہ تمام حملہ آور نقاب پوش تھے اور آپس میں شمالی ہندوستانی لہجے میں ہندی بول رہے تھے۔ اس بنیاد پر پولیس کو شبہ ہے کہ واردات میں کسی بین الریاستی گینگ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔
پولیس کا یہ بھی ماننا ہے کہ ملزمان نے واردات سے قبل گھر کی ریکی کی تھی، کیونکہ انہیں گھر کے مالک کے روزمرہ معمولات، گھر میں موجود نقد رقم اور زیورات کے بارے میں کافی معلومات تھیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ شبہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈاکو ویمولاواڑہ بائی پاس کے راستے فرار ہوئے۔
اطلاع ملنے پر کریم نگر پولیس کمشنر غوث عالم نے بدھ کی صبح جائے وقوع کا معائنہ کیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے متعدد خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جو علاقے اور اطراف کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہیں۔ فرانزک ماہرین نے بھی جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کیے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
80 دن میں کریم نگر کی دوسری بڑی ڈکیتی
یہ واقعہ کریم نگر میں تقریباً 80 دن کے اندر پیش آنے والی دوسری بڑی ڈکیتی ہے۔ اس سے قبل 3 مئی کو پی ایم جے جیولرز کے شوروم میں دن دہاڑے مسلح ڈاکوؤں نے دھاوا بول کر فائرنگ کی تھی، جس میں چار ملازمین زخمی ہوگئے تھے، جبکہ 161 تولہ سونے کے زیورات اور 112 قیراط ہیرے لوٹ لیے گئے تھے۔
پولیس کی تحقیقات میں اس واردات کے پیچھے بہار کے بدنام زمانہ سبودھ سنگھ گینگ کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ پولیس نے اس گینگ کے کئی ارکان کو گرفتار کیا تھا، جبکہ حکام کے مطابق اس ڈکیتی کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر بہار کی پورنیہ جیل سے کی گئی تھی، جہاں سبودھ سنگھ قید تھا۔
کریم نگر میں ایک بار پھر اسی طرز کی بڑی ڈکیتی کے بعد پولیس اس امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا حالیہ واردات کا تعلق کسی بین الریاستی جرائم پیشہ گینگ یا پہلے گرفتار کیے گئے گروہ سے تو نہیں۔ تاہم پولیس نے ابھی تک اس حوالے سے کسی حتمی نتیجے کا اعلان نہیں کیا ہے اور تحقیقات مختلف زاویوں سے جاری ہیں۔



