بین الاقوامی خبریں

ایران میں 5.5 شدت کا زلزلہ، مغربی علاقوں میں خوف و ہراس

حکام نے صورتحال کا جائزہ شروع کر دیا،کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں

تہران:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) مغربی ایران میں پیر  20 جولائی کو آنے والے 5.5 شدت کے زلزلے نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ یورپی-میڈیٹیرینین سسمولوجیکل سینٹر (EMSC) کے مطابق زلزلے کا مرکز زمین کی سطح سے تقریباً 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا، جبکہ یہ کہریز شہر سے تقریباً 54 کلومیٹر مغرب اور جاونرود سے لگ بھگ 33 کلومیٹر جنوب میں واقع تھا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے جھٹکے کافی شدت سے محسوس کیے گئے، تاہم اب تک کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے۔

مغربی ایران پہلے ہی زلزلوں کے حوالے سے حساس خطہ سمجھا جاتا ہے، جہاں وقتاً فوقتاً مختلف شدت کے زلزلے ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔ حالیہ زلزلے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اسے ایران کے جوہری پروگرام یا زیر زمین سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوشش کی، لیکن عالمی زلزلہ پیما اداروں اور ماہرین کی جانب سے ایسے دعوؤں کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق دستیاب شواہد اسے ایک قدرتی ٹیکٹونک زلزلہ قرار دیتے ہیں۔

ایران جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے نسبتاً زیادہ آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک عربین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے سنگم پر واقع ہے، جہاں زیر زمین پلیٹوں کی مسلسل حرکت سے دباؤ پیدا ہوتا رہتا ہے، جو وقتاً فوقتاً طاقتور زلزلوں کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

گزشتہ چند روز کے دوران بھی ایران میں متعدد زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اتوار کو جنوب مغربی صوبہ خوزستان کے سالینڈ علاقے میں 5.0 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے بعد صوبائی حکام نے تمام ریسکیو اور ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی تھی۔

ادھر تہران یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف جیو فزکس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران ایران میں 80 سے زائد چھوٹے اور بڑے زلزلے ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں رہنے والے شہریوں میں تشویش اور خوف کی فضا برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button