
ٹرمپ کا جنیرک ادویات پر 200 فیصد ٹیرف کا اعلان،بھارت کو اربوں ڈالر کے نقصان کا خدشہ
200 فیصد ٹیرف سے بھارت کی اربوں ڈالر کی فارما برآمدات کو بڑا دھچکا لگنے کا امکان
واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے درآمدی جنیرک ادویات (Generic Drugs) پر مرحلہ وار بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد بھارت کی دوا ساز صنعت کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بھارت امریکہ کو جنیرک ادویات فراہم کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، اس لیے اس فیصلے کے عالمی فارما سیکٹر پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ، 22 جولائی کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ یکم اگست 2026 سے امریکہ میں درآمد ہونے والی جنیرک ادویات پر آئندہ دو برس تک صفر فیصد ٹیرف برقرار رہے گا تاکہ کمپنیوں کو امریکہ میں اپنی فیکٹریاں قائم کرنے کا وقت مل سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک سال کے لیے 100 فیصد ٹیرف نافذ کیا جائے گا، جبکہ اگست 2028 سے درآمدی جنیرک ادویات پر 200 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
امریکہ میں فارما مینوفیکچرنگ بڑھانے کی کوشش
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس پالیسی کا مقصد جنیرک ادویات کی تیاری کو امریکہ منتقل کرنا ہے تاکہ مقامی سطح پر فارماسیوٹیکل صنعت کو فروغ ملے اور بیرونی ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جو کمپنیاں مقررہ مدت کے اندر امریکہ میں پلانٹ اور مینوفیکچرنگ سہولیات قائم نہیں کریں گی، انہیں بھاری ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ پیٹنٹ، برانڈڈ اور جدید (Innovative) ادویات سے متعلق موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
بھارت پر کیا اثر پڑے گا؟
بھارت کو دنیا بھر میں "فارمیسی آف دی ورلڈ” کہا جاتا ہے کیونکہ وہ کم قیمت اور معیاری جنیرک ادویات بڑی مقدار میں مختلف ممالک کو برآمد کرتا ہے۔
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو (GTRI) کی رپورٹ کے مطابق، 2025 میں بھارت نے امریکہ کو 9.7 ارب ڈالر مالیت کی فارماسیوٹیکل مصنوعات برآمد کیں، جو اس کی مجموعی عالمی فارما برآمدات 25.8 ارب ڈالر کا تقریباً 38 فیصد ہیں۔
بھارت سے امریکہ بھیجی جانے والی جنیرک ادویات ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کینسر، متعدی امراض اور ذہنی بیماریوں کے علاج میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر 200 فیصد ٹیرف نافذ ہو جاتا ہے تو بھارتی دوا ساز کمپنیوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے امریکی مارکیٹ میں جنیرک ادویات مہنگی ہونے اور سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متعدد بھارتی کمپنیاں امریکہ میں مینوفیکچرنگ یونٹس قائم کرنے پر بھی غور کر سکتی ہیں تاکہ اضافی ٹیرف سے بچا جا سکے۔



