
لنک پر ایک کلک اور لاکھوں روپے غائب، گوگل انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ، پلے اسٹور کی جعلی ایپس سے ہوشیار رہیں
حیدرآباد میں تین افراد جعلی سرمایہ کاری ایپس کے ذریعے لاکھوں روپے سے محروم
حیدرآباد :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)حیدرآباد، 22 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر ہونے والے سائبر فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے درمیان حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے گوگل انڈیا کے سربراہ کو بھی مقدمے میں شامل کر لیا ہے۔ یہ اقدام تین ایسے الگ الگ معاملات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں متاثرین کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے گوگل پلے اسٹور سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد لاکھوں روپے گنوا دیے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور گوگل سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔
تحقیقات کے مطابق متاثرین کو سوشل میڈیا اشتہارات، واٹس ایپ اور دیگر آن لائن ذرائع کے ذریعے غیر معمولی منافع کا لالچ دیا گیا۔ انہیں ایسے لنکس بھیجے گئے جن کے ذریعے وہ گوگل پلے اسٹور پر موجود مخصوص سرمایہ کاری اور ٹریڈنگ ایپس تک پہنچے۔ ایپس کو معتبر سمجھتے ہوئے متاثرین نے ان پر اکاؤنٹ بنایا، رقم منتقل کی اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ایک منظم سائبر فراڈ کا شکار ہو چکے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ایک بزرگ شہری نے سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ایک اشتہار پر اعتماد کرتے ہوئے سرمایہ کاری شروع کی۔ ابتدا میں منافع کے جھوٹے اعداد و شمار دکھائے گئے، جس کے بعد انہوں نے مختلف مراحل میں بڑی رقم منتقل کی۔ جب انہوں نے اپنی سرمایہ کاری واپس لینے کی کوشش کی تو نہ صرف رقم روک لی گئی بلکہ رابطہ بھی منقطع کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں تقریباً 24.37 لاکھ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
اسی نوعیت کے ایک دوسرے کیس میں ایک شخص جعلی شیئر ٹریڈنگ پلیٹ فارم کے ذریعے 17 لاکھ روپے سے محروم ہوگیا، جبکہ تیسرے معاملے میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو مبینہ جعلی سرمایہ کاری ایپ کے ذریعے 7.42 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ تینوں متاثرین کا مشترکہ مؤقف ہے کہ اگر یہ ایپس گوگل پلے اسٹور پر موجود نہ ہوتیں تو شاید وہ ان پر اعتماد نہ کرتے۔
شکایت کنندگان نے الزام لگایا ہے کہ گوگل کے پاس ایپس کی جانچ، اشتہارات کی نگرانی اور مشکوک مواد کی روک تھام کے نظام موجود ہونے کے باوجود دھوکہ دہی پر مبنی ایپس صارفین تک پہنچتی رہیں۔ اسی بنیاد پر انہوں نے جعلسازوں کے ساتھ گوگل انڈیا کے ذمہ دار عہدیدار کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
حیدرآباد سائبر کرائم پولیس کے مطابق گوگل انڈیا کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے تاکہ متعلقہ ایپس، ان کی منظوری کے عمل اور پلیٹ فارم پر موجودگی سے متعلق تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ اگر تحقیقات کے دوران یہ ثابت ہوا کہ مذکورہ ایپس دھوکہ دہی کے مقصد سے استعمال ہو رہی تھیں تو انہیں فوری طور پر ہٹانے سمیت دیگر قانونی اقدامات بھی کیے جائیں گے۔
سائبر ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ صرف کسی ایپ کا گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہونا اس کی مکمل ساکھ کی ضمانت نہیں۔ کسی بھی سرمایہ کاری، کرپٹو، شیئر ٹریڈنگ یا فوری منافع کے دعوے پر یقین کرنے سے پہلے کمپنی کی رجسٹریشن، صارفین کے حقیقی ریویوز اور متعلقہ مالیاتی اداروں سے اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ آن لائن فراڈ سے محفوظ رہا جا سکے۔



