
امریکہ-ایران جنگ شدت اختیار کر گئی، تیل 100 ڈالر سے تجاوز، اہم بحری راستوں پر کشیدگی میں اضافہ
امریکہ اور ایران کی بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی تیل مارکیٹ بحری تجارت اور مشرق وسطیٰ کے امن کو ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار کر دیا
تہران/واشنگٹن، 24 جولائی، اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے مسلسل تیرہویں رات بھی ایران کے مختلف فوجی اور تجارتی اہداف پر حملے کیے، جبکہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے ریڈ سی میں دو سعودی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان پیش رفتوں کے بعد عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کے بعد بندر عباس میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں فوجی سامان اور تجارتی کارگو کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دو افراد زخمی ہوئے۔ اسی دوران قشم جزیرے، اندیمشک، امیدیہ اور فیروزآباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
امریکی میزائل حملے میں اہواز کے مضافات میں چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ خطے میں تجارتی جہازوں اور شہری بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب حوثی باغیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو وہ ایک اور اہم عالمی تجارتی راستے کو بھی بند کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سے قبل ایران آبنائے ہرمز میں سخت کنٹرول نافذ کر چکا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں متبادل بحری راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جہازوں پر حملے دوبارہ ہوئے تو ایران کو بھی اس کی قیمت چکانی پڑے گی کیونکہ حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروپ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ "بڑی فوجی سزا” دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
کشیدگی کے بڑھتے ہی عالمی توانائی مارکیٹ بھی متاثر ہوئی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 6 فیصد اضافے کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی، جو حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح ہے۔
ادھر عراق کے وزیر اعظم علی الزیدی تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات میں مذاکرات اور امن کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عراق کی سرزمین ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
حوثیوں کے سرکاری ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ریڈ سی میں دو آئل ٹینکرز Encelia اور Layla کو نشانہ بنایا گیا، جس سے دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
بحیرہ احمر میں واقع باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے یورپ اور ایشیا کے درمیان تقریباً 12 فیصد عالمی تجارت اور ایک چوتھائی کنٹینر ٹریفک گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں متاثر ہوتے ہیں تو عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام اور ممکنہ فیس وصول کرنے کا حق حاصل ہے، جبکہ امریکہ اس علاقے میں بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ کے قبضے میں موجود منجمد ایرانی فنڈز کو جنگ کے دوران متاثر ہونے والے جہازوں اور کارگو کے نقصانات پورے کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اس تجویز کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ریاستی اثاثوں کی ضبطی کو معمول بنایا گیا تو عالمی مالیاتی نظام عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔
ایران کے مطابق 27 جون سے جاری تازہ امریکی فضائی حملوں میں اب تک 55 افراد ہلاک اور 629 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ تہران نے بھی خطے میں توانائی تنصیبات اور پانی فراہم کرنے والے مراکز پر حملے تیز کر دیے ہیں۔
ادھر امریکی ایوان نمائندگان میں جنگ روکنے سے متعلق ایک قرارداد منظور ہوئی، تاہم اسے علامتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے حکومتی پالیسی پر فوری اثرات مرتب ہونے کا امکان نہیں۔ صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری کی نظریں مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی پر مرکوز ہیں، جہاں ہر نئی فوجی کارروائی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر براہ راست اثر ڈال رہی ہے۔



