سرورققومی خبریں

پتنجلی آٹے میں حد سے زائد کیڑے مار دوا، فوڈ سیفٹی کارروائی کے بعد شیئرز میں گراوٹ

"خوراک کا معیار صرف صحت ہی نہیں بلکہ صارفین کے اعتماد اور کمپنی کی ساکھ کا بھی ضامن ہوتا ہے۔

نئی دہلی، 27 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): غذائی معیار سے متعلق ایک اہم معاملے میں پتنجلی فوڈز کو اپنے گیہوں کے آٹے کو مارکیٹ سے واپس لینا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ فوڈ سیفٹی حکام کی جانچ میں اس میں کلورپائریفوس نامی کیڑے مار دوا کی مقدار مقررہ قانونی حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔ اس معاملے نے نہ صرف صارفین کی توجہ حاصل کی بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی کمپنی کے حصص پر دباؤ بڑھ گیا، جس کے نتیجے میں شیئرز میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔

کمپنی کی جانب سے اسٹاک ایکسچینج کو فراہم کی گئی معلومات کے مطابق کیرالہ کے ضلع کوٹایم میں فوڈ سیفٹی حکام نے آٹے کے ایک بیاچ کے نمونوں کی جانچ کے دوران بے ضابطگی کی نشاندہی کی، جس کے بعد متعلقہ بیاچ کو مارکیٹ سے واپس منگانے کی ہدایت جاری کی گئی۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائی صرف ایک مخصوص بیاچ تک محدود ہے اور اس کا دیگر مصنوعات کے معیار یا فروخت سے کوئی تعلق نہیں۔

ماہرین کے مطابق کلورپائریفوس زرعی فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے استعمال ہونے والی ایک معروف کیڑے مار دوا ہے، تاہم خوراک میں اس کی مقدار اگر قانونی حد سے تجاوز کر جائے تو یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ زیادہ مقدار کی صورت میں اعصابی نظام متاثر ہونے، سر درد، متلی، چکر آنے اور معدے سے متعلق دیگر مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اسی لیے عالمی سطح پر اس کے استعمال اور باقیات پر سخت نگرانی کی جاتی ہے۔

اس خبر کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیا اور پیر کے روز بڑی تعداد میں پتنجلی فوڈز کے شیئرز فروخت کیے۔ کمپنی کا شیئر اپنی سابقہ بلند ترین سطح تقریباً 552 روپے کے مقابلے میں گر کر 344 روپے کے قریب پہنچ گیا، جبکہ یہ قیمت اس کے 52 ہفتوں کی کم ترین سطح 328.20 روپے سے زیادہ دور نہیں رہی۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی تحفظ سے متعلق کسی بھی خبر کا اثر کمپنی کی ساکھ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر فوری طور پر پڑتا ہے۔

پتنجلی فوڈز نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ کمپنی متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور واپس منگوائے جانے والے بیاچ سے متعلق تمام ہدایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ دیگر تمام مصنوعات معمول کے مطابق محفوظ ہیں اور صارفین کو غیر ضروری تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔

غذائی تحفظ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ خوراک کے معیار کی مسلسل نگرانی نہ صرف عوامی صحت بلکہ صارفین کے اعتماد اور صنعت کے استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ کمپنی آئندہ معیار کو مزید مضبوط بنانے اور صارفین کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button