
‘کچھ لڑکیاں ریپ سے لطف اندوز ہوتی ہیں’، متنازع بیان پر ٹی جی موہن داس کے خلاف مقدمہ درج
فائرنگ کی بات بھی مہنگی پڑ گئی,
ترواننت پورم، 29 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی میں نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج سے متعلق انتہائی متنازع بیانات دینے کے الزام میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر ٹی جی موہن داس کے خلاف کیرالہ پولیس کے سائبر کرائم ونگ نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے یوٹیوب چینل پر نشر کی گئی ویڈیوز کے بارے میں موصول ہونے والی شکایت میں الزام لگایا گیا کہ ان کا مقصد عوامی امن کو متاثر کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور معاشرے میں بے چینی پیدا کرنا تھا، جس کے بعد مختلف قانونی دفعات کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس کی جانب سے درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق شکایت میں کہا گیا ہے کہ ٹی جی موہن داس نے اپنے یوٹیوب چینل "Pathrika” پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں ایسے ریمارکس دیے جو معاشرے میں اشتعال پیدا کرنے اور امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایف آئی آر میں واضح کیا گیا ہے کہ ان بیانات سے لوگوں میں خوف اور بے چینی پیدا ہونے کا خدشہ تھا، اسی لیے سائبر پولیس نے شکایت کا جائزہ لینے کے بعد باضابطہ مقدمہ درج کیا۔
متنازع ویڈیو میں ٹی جی موہن داس نے مبینہ طور پر کہا کہ دہلی میں جاری طلبہ احتجاج مستقبل میں گینگ ریپ جیسے واقعات کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر ایسے واقعات پیش آئے تو کوئی شکایت درج نہیں کرائے گا کیونکہ ان کے بقول "کچھ لڑکیاں ریپ سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔” ان ریمارکس کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا اور مختلف حلقوں نے انہیں خواتین کی توہین اور غیر ذمہ دارانہ بیان قرار دیا۔
اسی ویڈیو میں موہن داس نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کی بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ ان کے ہاتھ میں ہوتی تو سب سے پہلے کرفیو نافذ کیا جاتا، پھر مظاہرین کو فوری طور پر منتشر ہونے کا حکم دیا جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر احتجاج کرنے والے منتشر ہونے سے انکار کرتے تو وہ پولیس کو فائرنگ کا حکم دیتے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر اس کارروائی میں کچھ افراد ہلاک ہو جائیں یا مستقل معذوری کا شکار ہو جائیں تو بھی چند گھنٹوں کے اندر صورتحال پر قابو پا لیا جائے گا اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا جائے گا۔ ان ریمارکس کو بھی ایف آئی آر کا حصہ بنایا گیا ہے۔
کیرالہ پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی دفعہ 192 اور دفعہ 353(1)(b) کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 اور کیرالہ پولیس ایکٹ کی دفعہ 120(o) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ان دفعات کا تعلق ایسے اقدامات سے ہے جن میں فساد پر اکسانے کی نیت، خوف یا بے چینی پیدا کرنے والے بیانات کی اشاعت، عوامی امن کو متاثر کرنے والی سرگرمیاں اور کمپیوٹر یا آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کیے جانے والے بعض جرائم شامل ہیں۔
ایف آئی آر کے مطابق یہ شکایت 29 جولائی کو ای میل کے ذریعے سائبر پولیس کو موصول ہوئی تھی۔ ابتدائی کارروائی کے طور پر شکایت کو اسٹیشن پٹیشن رجسٹر میں درج کیا گیا، جس کے بعد تمام دستیاب مواد کا جائزہ لیا گیا اور بعد ازاں کرائم نمبر 95/2026 کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں کیے گئے تمام بیانات، ڈیجیٹل شواہد اور شکایت میں شامل نکات کی قانونی تقاضوں کے مطابق جانچ کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا مذکورہ بیانات متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لیے ویڈیو کے مکمل مواد اور دیگر تکنیکی شواہد کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کیے جانے والے بیانات کے قانونی اثرات پر مسلسل بحث جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق عوامی شخصیات کی جانب سے دیے جانے والے ریمارکس نہ صرف وسیع پیمانے پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان سے معاشرتی کشیدگی بھی پیدا ہو سکتی ہے، اسی لیے ایسے معاملات میں قانون نافذ کرنے والے ادارے شکایات موصول ہونے پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کرتے ہیں۔
خبر لکھے جانے تک ٹی جی موہن داس کی جانب سے مقدمہ درج ہونے یا ان پر عائد الزامات کے حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ کیرالہ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس میں قانونی کارروائی ضابطے کے مطابق جاری رہے گی۔



