
2020 دہلی فسادات: آئی بی افسر انکت شرما قتل کیس میں طاہر حسین اور 4 دیگر کو عمر قید
طاہر حسین اور چار دیگر مجرم عمر بھر جیل میں رہیں گے۔
نئی دہلی، 31 جولائی (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): شمال مشرقی دہلی کے 2020 کے فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے افسر انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں دہلی کی کڑکڑڈوما عدالت نے سابق عام آدمی پارٹی (عآپ) کے کونسلر طاہر حسین سمیت پانچ افراد کو عمر قید کی سزا سنادی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قتل کو انتہائی سنگین اور سفاکانہ جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج پروین سنگھ نے طاہر حسین کے علاوہ جاوید، انس، ناظم اور قاسم کو قتل، اغوا، فساد برپا کرنے، مہلک ہتھیاروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی اور مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ مقتول کو بے رحمی سے قتل کیا گیا اور اس کی لاش کو غیر انسانی انداز میں پھینک دیا گیا، جس سے جرم کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔
استغاثہ نے عدالت سے مجرموں کو سزائے موت دینے کی درخواست کی تھی۔ سرکاری وکیل کا مؤقف تھا کہ انکت شرما کے جسم پر 51 زخم موجود تھے، جو اس قتل کی غیر معمولی سفاکی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب طاہر حسین کے وکیل راجیو موہن نے عدالت سے نرمی برتنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ہر قتل کے مقدمے میں سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ طاہر حسین کے خلاف کسی مجرمانہ سازش یا قتل میں براہ راست کردار کو ثابت نہیں کر سکا، اس لیے سزا کا تعین کرتے وقت رعایتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔اس لیے عمر قید سے زیادہ سزا مناسب نہیں ہوگی۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ اگرچہ پانچوں ملزمان قتل، اغوا اور فساد سمیت مختلف دفعات میں قصوروار ثابت ہوئے، تاہم مجرمانہ سازش سے متعلق بھارتی تعزیرات کی دفعہ 120 بی کے تحت لگایا گیا الزام ثابت نہیں ہوسکا، جس کے باعث انہیں اس الزام سے بری کر دیا گیا۔ اسی مقدمے میں شامل مزید چھ ملزمان کو بھی شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر بری کر دیا گیا۔
یہ مقدمہ فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق ہے، جب انٹیلی جنس بیورو کے افسر انکت شرما کی لاش 26 فروری کو کھجوری خاص کے ایک نالے سے برآمد ہوئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق وہ 25 فروری کو اپنے گھر کے قریب تشدد کے دوران ہجوم کے ہتھے چڑھ گئے تھے، جہاں انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، متعدد بار چاقو مارا گیا اور بعد ازاں لاش نالے میں پھینک دی گئی۔
انکت شرما کے والد رویندر کمار کی شکایت پر دیال پور تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق انکت گھر سے روزمرہ کی اشیا خریدنے کے لیے نکلے تھے لیکن واپس نہیں لوٹے۔ بعد میں ان کی لاش برآمد ہونے پر قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں 53 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جبکہ سیکڑوں افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا تھا۔



