سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

فراق گورکھپوری کا شعر اور آج کا ہندوستان-جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو

فراق کے شعر میں بدلتے ہندوستان کی سماجی و فکری تصویر

میری رائے میں اُردو شاعری کا عظیم ترین شعر وہ ہے جو فراق گورکھپوری نے کہا:

ہر ذرہ پر ایک کیفیتِ نیم شبی ہے
اے ساقیِ دوراں! یہ گناہوں کی گھڑی ہے

اس شعر کی عظمت کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اُردو شاعری میں عموماً دو سطحوں پر معنی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ایک ظاہری یا لفظی معنی اور دوسرے باطنی، علامتی اور فکری معنی۔ اُردو شعراء اکثر اپنے خیالات کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے استعاروں، کنایوں اور علامتوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ اس شعر میں "ذرہ” سے مراد معاشرے کا ہر فرد، "کیفیتِ نیم شبی” سے مراد ایک ایسی درمیانی حالت ہے جو نہ مکمل رات ہے اور نہ مکمل دن، جبکہ "ساقیِ دوراں” سے مراد اپنے عہد اور زمانے کے لوگ ہیں۔

میرے نزدیک یہ شعر اس عبوری دور کی نہایت خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے جس سے ہمارا معاشرہ گزر رہا ہے۔ "کیفیتِ نیم شبی” اس حقیقت کی علامت ہے کہ ہم نہ مکمل طور پر پرانے جاگیردارانہ دور میں ہیں اور نہ ہی مکمل جدید صنعتی معاشرے میں داخل ہو چکے ہیں، بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بے چینی، اضطراب، کشمکش اور فکری انتشار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ جو اقدار کبھی مسلمہ سمجھی جاتی تھیں، آج ان پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ بعض نئی اقدار قبولیت حاصل کر رہی ہیں۔

"کیفیتِ نیم شبی” ایک اور ذہنی کیفیت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ آدھی رات کو اچانک جاگنے والا انسان کچھ لمحوں کے لیے حیرت، الجھن اور نیم بیداری کی حالت میں ہوتا ہے۔ شاعر نے "ہر ذرہ” کہہ کر یہ واضح کیا ہے کہ یہی کیفیت پورے معاشرے پر طاری ہے۔ ہر شخص تبدیلی، غیر یقینی اور ذہنی کشمکش کا شکار ہے۔

دوسرے مصرعے میں "اے ساقیِ دوراں! یہ گناہوں کی گھڑی ہے” دراصل اس دور کے انسانوں سے خطاب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایسا زمانہ ہے جس میں پرانی اور نئی اقدار ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔ جس چیز کو ایک طبقہ گناہ سمجھتا ہے، دوسرا اسے ترقی یا فضیلت قرار دیتا ہے، اور اس کے برعکس بھی۔ اسی کیفیت کو شیکسپیئر نے اپنے مشہور ڈرامہ Macbeth میں اس طرح بیان کیا تھا کہ "جو اچھا ہے وہ برا ہے، اور جو برا ہے وہ اچھا ہے۔”

شاعر نے صرف دو مصرعوں میں اس عبوری دور کی بنیادی خصوصیات بیان کر دی ہیں، جنہیں بیان کرنے کے لیے کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ یہی فنی اختصار اس شعر کو غیرمعمولی عظمت عطا کرتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر عبوری دور انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یورپ بھی سولہویں سے اٹھارویں صدی تک اسی کیفیت سے گزرا، جہاں مذہبی اصلاحات، جنگیں، انقلابات، سماجی تبدیلیاں اور فکری کشمکش اپنے عروج پر تھیں۔ اسی دور میں جان لاک، والٹیر اور روسو جیسے مفکرین کے نظریات سامنے آئے اور بالآخر جدید یورپی معاشرہ وجود میں آیا۔

میرے خیال میں ہندوستان بھی اس وقت ایسے ہی ایک تاریخی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ملک نہ مکمل طور پر جاگیردارانہ معاشرہ ہے اور نہ ہی مکمل جدید صنعتی ریاست، بلکہ دونوں کے درمیان ایک عبوری کیفیت میں ہے۔ ذات پات، فرقہ واریت اور سماجی امتیاز اب بھی موجود ہیں، جو جاگیردارانہ ذہنیت کی علامت ہیں، لیکن دوسری طرف صنعتی ترقی، جدید تعلیم اور قانونی اصلاحات بھی معاشرے کو نئی سمت دے رہی ہیں۔

اسی عبوری دور کی وجہ سے معاشرے میں پرانی اقدار کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر ذات پات پر مبنی تفریق، دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور فرقہ وارانہ سوچ کو آج تعلیم یافتہ اور روشن خیال طبقہ قابلِ مذمت سمجھتا ہے، جبکہ بین ذات پات اور بین المذاہب شادیاں، محبت کی شادی اور انفرادی آزادی جیسے تصورات کو زیادہ قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جسے فراق نے اپنے شعر میں نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے۔

حال ہی میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں مقیم نوین گری، جو سابق صدرِ جمہوریہ وی وی گری کے پڑپوتے ہیں، نے میرا اور سابق مرکزی وزیر، رکنِ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل کپل سبل کا انٹرویو کیا۔ اس گفتگو میں میں نے فراق گورکھپوری کے اس شعر کی تشریح کی اور یہ بھی کہا کہ پنجابیوں نے اُردو زبان اور ادب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

میں نے دنیا کی مختلف زبانوں، جن میں انگریزی، فرانسیسی، جرمن، اطالوی، ہسپانوی، لاطینی اور ہندوستانی زبانیں جیسے ہندی، بنگلہ، تمل اور کشمیری شامل ہیں، کی شاعری کا مطالعہ کیا ہے۔ اس مطالعے کے بعد پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ انسانی جذبات، احساسات اور دل کی آواز کو جس قوت، گہرائی اور حسنِ بیان کے ساتھ اُردو شاعری پیش کرتی ہے، اس کی مثال دنیا کی کسی دوسری زبان میں کم ہی ملتی ہے۔ اسی لیے میں اُردو شاعری کو دنیا کی عظیم ترین شاعری قرار دیتا ہوں۔

یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں آج بھی کچھ متعصب لوگ اُردو کو صرف مسلمانوں کی زبان قرار دے کر اس کی مخالفت کرتے ہیں، حالانکہ اُردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت ہے۔ 1947ء سے پہلے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں تعلیم یافتہ ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی سبھی اُردو پڑھتے، لکھتے اور بولتے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہی ہے کہ جس شعر کو میں اُردو کا عظیم ترین شعر قرار دیتا ہوں، وہ کسی مسلمان شاعر نے نہیں بلکہ ہندو شاعر فراق گورکھپوری، جن کا اصل نام رگھوپتی سہائے تھا، نے تخلیق کیا۔ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ الہ آباد یونیورسٹی میں طالب علمی کے دوران فراق گورکھپوری میرے استاد تھے۔

آخر میں نوین گری کا ذکر ضروری ہے، جنہوں نے میرا اور کپل سبل کا انٹرویو کیا۔ وہ پہلے دہلی میں وکالت کرتے تھے، بعد میں وینکوور منتقل ہوئے جہاں انہوں نے کامیاب قانونی پیشہ اختیار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ "کیوں گھنٹی بجی” کے نام سے ایک ویڈیو شو بھی چلاتے ہیں، جس میں مختلف ممتاز شخصیات کے انٹرویوز پیش کیے جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button