
راجیہ سبھا سے پیدائش و اموات رجسٹریشن ترمیمی بل 2026 منظور، دو سال سے زائد تاخیر پر عدالتی منظوری لازمی
جعلی برتھ سرٹیفکیٹس پر لگام: پارلیمنٹ نے رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ (ترمیمی) بل 2026 منظور کر لیا
نئی دہلی، 4 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): پارلیمنٹ نے پیدائش اور اموات کے جعلی سرٹیفکیٹس کی روک تھام اور شہری رجسٹریشن کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے مقصد سے رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ (ترمیمی) بل 2026 کو منظوری دے دی ہے۔ منگل کو راجیہ سبھا نے اپوزیشن کے ہنگامے اور شور شرابے کے درمیان اس بل کو صوتی ووٹ سے منظور کیا، جبکہ لوک سبھا پہلے ہی 31 جولائی 2026 کو اس کی منظوری دے چکی تھی۔ اس طرح بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہو گیا ہے اور اب صدرِ جمہوریہ کی منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
ایوان بالا میں بل پر بحث کے دوران اپوزیشن نے وزیر داخلہ کی عدم موجودگی پر شدید اعتراض کیا۔ قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ اتنے اہم قانون پر بحث کے لیے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ خود ایوان میں موجود ہوں۔ کانگریس، ڈی ایم کے اور سی پی آئی (ایم) سمیت کئی جماعتوں کے ارکان نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا، تاہم ڈپٹی چیئرمین نے ارکان کو صرف بل پر گفتگو تک محدود رہنے کی ہدایت دی۔ احتجاج اور نعرے بازی کے باوجود کارروائی جاری رہی اور آخرکار بل صوتی ووٹ سے منظور کر لیا گیا۔
بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ حکومت کا مقصد ملک میں ہر پیدائش اور ہر موت کا بروقت، درست اور قابل اعتماد اندراج یقینی بنانا ہے تاکہ سرکاری ریکارڈ مضبوط ہو اور شہریوں کو درست قانونی شناخت میسر آ سکے۔ ان کے مطابق یہ قانون عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے نہیں بلکہ جعلی دستاویزات کے استعمال کو روکنے اور رجسٹریشن کے نظام پر اعتماد بڑھانے کے لیے لایا گیا ہے۔
دو سال سے زائد تاخیر پر عدالتی منظوری لازمی
ترمیمی بل کی سب سے اہم تبدیلی تاخیر سے ہونے والی رجسٹریشن سے متعلق ہے۔ نئے قانون کے مطابق اگر کسی پیدائش یا موت کا اندراج ایک سے دو سال کی تاخیر سے کرایا جاتا ہے تو اس کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ یا مجاز ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی منظوری درکار ہوگی۔ تاہم اگر رجسٹریشن دو سال سے زیادہ تاخیر سے کرائی جاتی ہے تو صرف جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (JMFC) کے حکم کے بعد ہی اندراج ممکن ہوگا۔
اس سے قبل ایسے معاملات میں انتظامی حکام کی منظوری کافی سمجھی جاتی تھی، لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ عدالتی نگرانی شامل ہونے سے جعلی برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس حاصل کرنے کے امکانات نمایاں حد تک کم ہو جائیں گے اور ہر درخواست کی آزادانہ قانونی جانچ ممکن ہوگی۔
جعلی سرٹیفکیٹس روکنے پر زور
حکومت کے مطابق حالیہ برسوں میں مختلف ریاستوں میں جعلی پیدائشی اور وفاتی سرٹیفکیٹس کے ذریعے شناختی دستاویزات حاصل کرنے، سرکاری اسکیموں سے ناجائز فائدہ اٹھانے اور دیگر قانونی معاملات میں غلط معلومات استعمال کرنے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایسے معاملات کو روکنے کے لیے رجسٹریشن کے نظام کو مزید سخت اور شفاف بنانے کی ضرورت محسوس کی گئی، جس کے بعد یہ ترمیم متعارف کرائی گئی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ عدالتی نگرانی سے صرف وہی درخواستیں منظور ہوں گی جن میں تاخیر کی معقول اور قانونی بنیاد موجود ہوگی، جبکہ فرضی یا جعلی دعووں کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
پیدائشی سرٹیفکیٹ کی قانونی اہمیت
مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پیدائشی سرٹیفکیٹ ہر شہری کی پہلی سرکاری شناخت تصور کیا جاتا ہے۔ اسی دستاویز کی بنیاد پر آدھار کارڈ، پاسپورٹ، ووٹر لسٹ میں نام کا اندراج، تعلیمی اداروں میں داخلہ، ملازمت، وراثتی معاملات اور متعدد سرکاری فلاحی اسکیموں سے فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
حکومت کے مطابق اگر برسوں بعد بغیر مناسب جانچ کے پیدائشی یا وفاتی سرٹیفکیٹس جاری کیے جائیں تو نہ صرف جعلی شناخت بنانا آسان ہو جاتا ہے بلکہ سرکاری ریکارڈ، مردم شماری، جائیداد کے تنازعات اور دیگر قانونی معاملات میں بھی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
عام شہریوں پر کیا اثر پڑے گا؟
حکومت نے واضح کیا ہے کہ جو شہری مقررہ مدت کے اندر پیدائش یا موت کا اندراج کراتے ہیں، ان کے لیے کسی نئے ضابطے یا اضافی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ قانون میں تبدیلی صرف ان معاملات پر لاگو ہوگی جہاں رجسٹریشن دو سال سے زیادہ تاخیر سے کرائی جائے گی۔
ایسے افراد کو پہلے جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس سے اجازت حاصل کرنا ہوگی، جس کے بعد متعلقہ رجسٹریشن اتھارٹی اندراج کا عمل مکمل کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے حقیقی درخواست گزاروں کے حقوق محفوظ رہیں گے جبکہ جعلی اندراجات کی روک تھام بھی ممکن ہوگی۔
2023 کے قانون کا تسلسل
ماہرین کے مطابق یہ ترمیم رجسٹریشن آف برتھ اینڈ ڈیتھ (ترمیمی) ایکٹ 2023 کا تسلسل ہے۔ 2023 میں کیے گئے قانون کے تحت ملک بھر میں پیدائش اور اموات کا قومی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس قائم کرنے، مختلف ریاستوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو آسان بنانے اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کو متعدد سرکاری خدمات کے لیے بنیادی دستاویز کا درجہ دیا گیا تھا۔
2026 کی تازہ ترمیم اسی نظام کو مزید مضبوط بناتے ہوئے تاخیر سے رجسٹریشن کے عمل میں عدالتی نگرانی شامل کرتی ہے تاکہ شہری رجسٹریشن کا پورا نظام زیادہ محفوظ، شفاف اور قابل اعتماد بنایا جا سکے۔
حکومت کا مؤقف
بل پر بحث کے دوران حکومت نے کہا کہ اس قانون کا مقصد کسی شہری کو غیر ضروری مشکلات میں ڈالنا نہیں بلکہ پیدائش اور اموات کے سرکاری ریکارڈ کی ساکھ کو مضبوط کرنا، جعلی سرٹیفکیٹس کے استعمال پر مؤثر روک لگانا اور شہری شناختی نظام کو مزید محفوظ بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق عدالتی نگرانی کے ذریعے رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت بڑھے گی اور مستقبل میں جعلی دستاویزات کے ذریعے ہونے والی دھوکہ دہی پر قابو پانے میں مدد ملے گی



