
بھارت میں مجھے ملنے والی حمایت ناقابلِ یقین ہے، نریندر مودی ہمارے عظیم دوست ہیں: نیتن یاہو
اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ نریندر مودی اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں شامل ہیں
نئی دہلی، 4 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں)اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے سب سے قریبی اور قابلِ اعتماد دوستوں میں شامل ہیں، جبکہ بھارت میں انہیں اور اسرائیل کو ملنے والی عوامی حمایت "ناقابلِ یقین” ہے۔
پیر کو جاری ہونے والے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو اپنی عالمی سفارتی شراکت داری مزید مضبوط بنانا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے علاوہ بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت بھی اسرائیل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا، "میں نریندر مودی کے ساتھ تعلقات کو بے حد اہم سمجھتا ہوں، وہ اسرائیل کے عظیم ترین دوستوں میں سے ایک ہیں، جبکہ بھارت میں مجھے اور اسرائیل کو جو حمایت حاصل ہے وہ واقعی ناقابلِ یقین ہے۔”
نیتن یاہو نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ اسرائیل عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق کئی ممالک اب بھی اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، جن میں بھارت نمایاں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا تھا کہ اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی امریکہ ہے اور تل ابیب کو واشنگٹن کے ساتھ تعلقات خراب کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ تاہم نیتن یاہو نے بعد ازاں ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں بھارت کو اسرائیل کے اہم ترین بین الاقوامی شراکت داروں میں شامل قرار دیا تھا۔
اپنے انٹرویو میں نیتن یاہو نے غزہ کی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے غزہ کا موازنہ شمالی کوریا سے کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں صرف دو ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ آزادانہ طور پر باہر نہیں جا سکتے، ایک شمالی کوریا اور دوسرا غزہ۔ ان کے مطابق غزہ کے شہریوں کو دوسرے ممالک قبول نہیں کرتے، حالانکہ انہیں بھی نقل و حرکت کی آزادی ملنی چاہیے۔
دفاعی شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ آنے والے برسوں میں اسرائیل اپنی دفاعی صلاحیت مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ملک اپنے جدید اسٹیلتھ اور بغیر پائلٹ کے جنگی طیارے تیار کرنا چاہتا ہے تاکہ بیرونی دفاعی سپلائی پر انحصار کم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، غزہ کی جنگ اور عالمی سفارتی صف بندی پر مسلسل بحث جاری ہے، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے تعلقات بھی عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔



