بین ریاستی خبریں

‘مدرسہ کہیں بھی ہو، دہشت گردی کو ہوا دیتا ہے’، کیشو پرساد موریہ کے بیان پر سیاسی ہنگامہ

متنازع بیان پر اپوزیشن کا سخت ردعمل، مدارس کے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری

لکھنؤ، 4 اگست (اردودنیانیوز/ایجنسیاں): اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے مدارس سے متعلق ایک متنازع بیان نے ریاست سمیت ملک بھر میں سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود مدارس دہشت گردی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں، جس پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید اعتراض کرتے ہوئے اسے ایک مخصوص طبقے اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

لکھنؤ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ "مدرسے چاہے بھارت میں ہوں، پاکستان میں یا بنگلہ دیش میں، یہ ایک طرح سے دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں۔” ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے متضاد ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت جان بوجھ کر مذہبی اور تعلیمی معاملات کو سیاسی رنگ دے رہی ہے تاکہ اسمبلی انتخابات سے قبل ماحول کو متاثر کیا جا سکے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے کئی رہنماؤں نے نائب وزیر اعلیٰ کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی اور تعلیمی اصلاحات سے جوڑنے کی کوشش کی، جبکہ بعض رہنماؤں نے اس معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیا۔

یہ تنازع ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اتر پردیش اسمبلی کا مانسون اجلاس شروع ہونے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق ریاستی حکومت مدارس کے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت مدارس میں ڈگری سطح کے کورسز ختم کیے جا سکتے ہیں اور تعلیمی نظام کو صرف بارہویں جماعت تک محدود کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

اگر کابینہ اس تجویز کی منظوری دیتی ہے تو اتر پردیش میں مدرسہ تعلیم کے نظام میں ایک اہم تبدیلی سامنے آ سکتی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اگلے سال ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لیے مدارس سے متعلق بیانات اور ممکنہ اصلاحات انتخابی سیاست کا اہم موضوع بن سکتے ہیں۔

اس سے قبل مصنفہ تسلیمہ نسرین بھی مدارس کے حوالے سے متنازع تبصرہ کر چکی ہیں، جس میں انہوں نے مدارس کو شدت پسندی سے جوڑتے ہوئے حکومت سے ان کی جگہ سیکولر تعلیمی ادارے قائم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے بیان کے بعد اب کیشو پرساد موریہ کا تازہ بیان ایک مرتبہ پھر اسی بحث کو سیاسی مرکز بنا رہا ہے۔

واضح رہے کہ مدارس سے متعلق کیشو پرساد موریہ کے بیان پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ ان کے الزامات کے حق میں اس خبر میں کوئی آزاد یا عدالتی طور پر ثابت شدہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف حلقوں نے ان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بیان قرار دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button