
گجرات میں چاندی پورہ وائرس کا قہر، 22 افراد جاں بحق، 35 کیسز کی تصدیق، حکومت ہائی الرٹ
184 مشتبہ کیسز میں 35 مریضوں میں وائرس کی تصدیق، 22 افراد جان کی بازی ہار گئے،
گاندھی نگر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) گجرات میں چاندی پورہ وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز نے ریاستی حکومت کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وائرس سے اب تک 22 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 35 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے محکمہ صحت نے ریاست بھر میں نگرانی، اسکریننگ اور طبی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
ریاستی وزیر صحت پرفل پنشیریا نے بتایا کہ اب تک 184 مشتبہ مریضوں کے خون کے نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے، جن میں سے 35 میں چاندی پورہ وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ 11 نمونوں کی رپورٹیں ابھی آنا باقی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت سات مریض انتہائی نگہداشت (آئی سی یو) میں زیر علاج ہیں، جہاں سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ متاثرہ بچوں کا علاج گاندھی نگر، سابرکانٹھا (ہمت نگر)، پٹن، راجکوٹ اور بھاو نگر کے سول اسپتالوں میں جاری ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک چھ مریض مکمل صحت یاب ہو کر اسپتال سے گھر جا چکے ہیں، جبکہ تشویشناک مریضوں کے لیے خصوصی طبی سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔
وزیر صحت نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں سرویلنس اور جانچ کے عمل کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ مشتبہ مریضوں کی فوری شناخت، انہیں الگ رکھنے اور ان کے قریبی رابطوں کی اسکریننگ کے لیے خصوصی ٹیمیں مختلف دیہات میں کام کر رہی ہیں۔ تاہم اب تک کسی متاثرہ شخص کے قریبی رابطوں میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی، جس کے باعث وائرس کے اصل منبع اور اس کے پھیلاؤ کی نوعیت جاننا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
پرفل پنشیریا کے مطابق چاندی پورہ وائرس زیادہ تر ریت کی مکھی (Sand Fly) کے کاٹنے سے منتقل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ کیڑے مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گاندھی نگر میں محکمہ صحت نے ریاست کے تمام پرائمری ہیلتھ سینٹرز (PHCs)، کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز (CHCs) اور سول اسپتالوں کے ڈاکٹروں کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کیا، جس میں مریضوں کے علاج، بروقت تشخیص اور احتیاطی اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر صحت نے واضح کیا کہ چاندی پورہ وائرس کے لیے فی الحال کوئی مخصوص دوا یا حتمی علاج دستیاب نہیں، اس لیے مریضوں کا علاج ان کی علامات اور طبی کیفیت کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ بخار، شدید کمزوری یا اعصابی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔



