
مدھیہ پردیش:جان ہتھیلی پر رکھ کر اسکول جاتے بچے، کانگریس نے بی جے پی حکومت کو گھیر لیا
جب تعلیم کا راستہ ہی جان لیوا بن جائے تو ترقی کے دعوے سوالوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔
مدھیہ پردیش/ودیشا، 5 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں): مدھیہ پردیش کے ضلع ودیشا میں اسکول جانے والے بچوں کی جان کو لاحق خطرات کی ایک ویڈیو سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ کانگریس نے اس ویڈیو کو اپنے آفیشل ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے ریاست کی بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی اور بنیادی سہولیات کی کمی کو حکومت کی ناکامی قرار دیا۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے طلبہ روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر ندی پر بنے ایک اسٹاپ ڈیم کو عبور کرتے ہوئے اسکول پہنچتے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ وہی پارلیمانی حلقہ ہے جہاں سے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں، لیکن برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود عوام کو محفوظ بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جا سکیں۔
اطلاعات کے مطابق بندھیرا، ککروا، املیا اور بہلوٹ سمیت کئی دیہات کے بچے ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ پلوہ گاؤں جاتے ہیں۔ اسٹاپ ڈیم کے راستے سے اسکول کا فاصلہ تقریباً پانچ کلومیٹر رہ جاتا ہے، جبکہ سڑک کے ذریعے یہی سفر تقریباً 30 کلومیٹر بنتا ہے۔ اسی مشکل کی وجہ سے زیادہ تر طلبہ مختصر مگر انتہائی خطرناک راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق اسٹاپ ڈیم کے درمیان تقریباً چار فٹ چوڑا خلا موجود ہے، جسے بچوں کو چھلانگ لگا کر عبور کرنا پڑتا ہے۔ نیچے گہرا اور بہتا ہوا پانی کسی بھی لمحے بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ معاشی مسائل کے باعث روزانہ گاڑی کا انتظام ممکن نہیں، اس لیے بچوں کے پاس یہی واحد راستہ بچتا ہے۔
اہلِ علاقہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ راستے کے خوف کی وجہ سے کئی بچوں نے آٹھویں جماعت کے بعد تعلیم جاری رکھنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ والدین اپنے بچوں کو آگے پڑھانا چاہتے ہیں، لیکن روزانہ پیش آنے والے خطرات انہیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں۔ میڈیا میں معاملہ سامنے آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے موقع کا معائنہ کیا۔ ایس ڈی ایم شتج شرما، تحصیلدار اور دیگر افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔
احتیاطی اقدام کے طور پر انتظامیہ نے اسٹاپ ڈیم کے راستے کو خاردار تار اور جھاڑیوں سے بند کر دیا، جس کے نتیجے میں کئی طلبہ اسکول نہیں پہنچ سکے۔ گاؤں والوں نے انتظامیہ کے سامنے دو اہم مطالبات رکھے ہیں۔ پہلا یہ کہ بندھیرا کے موجودہ اسکول کو ہائی اسکول کا درجہ دیا جائے تاکہ بچوں کو دور نہ جانا پڑے، اور دوسرا یہ کہ اسٹاپ ڈیم کی جگہ مستقل اور محفوظ پل تعمیر کیا جائے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ دونوں تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے اور بچوں کے لیے محفوظ متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ये वीडियो देखिए 👇
मध्य प्रदेश के विदिशा में स्कूली छात्र-छात्राएं जान जोखिम में डालकर, उफनती नदी को पार करते दिखाई दे रहे हैं। छात्र रोज इसी तरह जान हथेली में रखकर स्कूल जाने को मजबूर हैं।
ये वही विदिशा है, जहां से पूर्व CM शिवराज सिंह चौहान सांसद हैं।
‘विकास’ के हवा-हवाई… pic.twitter.com/7e5qsPzbUB
— Congress (@INCIndia) August 4, 2026



