
غریب بینک اکاؤنٹ ہولڈرس کے کھاتوں سے 25 ہزار کروڑ کا سرقہ!اور حکومت کی شاہ خرچی-روش کمار
تعلیمی بجٹ اور امیت شاہ کی پارلیمنٹ میں عدم موجودگی-
ہمارے ملک کی NET FDI بیرونی راست سرمایہ کاری گرتی جارہی ہے ، اس کے باوجود کفایت شعاری احتیار کرنے کی بجائے اسراف کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ آپ کو یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ جنوبی ریاست آندھراپردیش میں ایک بین الاقوامی طیرانگاہ کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس پر کروڑہا روپئے خرچ کئے گئے، کیا ایسا ہونا چاہئے ؟ اول تو یہی پتہ نہیں کہ آندھراپردیش کے بھوگا پورم ایرپورٹ کی افتتاحی تقریب پر کتنی رقم خرچ ہوئی ۔ حکومت نے اپنی طرف سے بتایا نہیں اور میڈیا نے پوچھا نہیں۔
اس حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا ہے کہ 2025-26 میں NET FDI ، 6 ارب ڈالر کے آس پاس ہے جو کہ بہت کم ہے 2022-23 میں ہندوستان کی نٹ ایف ڈی آئی 27.9 ارب ڈالرس تھی جو 2024-25 میں گھٹ کر ایک ارب ڈالرس سے بھی کم ہوگئی۔ 97 فیصد کی گراوٹ آگئی ہے لیکن اس شاہی افتتاحی تقریب کو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوگا کہ ہندوستان کے پاس اتنا پیسہ جمع ہوگیا ہے کہ اسے خرچ کیلئے اس طرح کے پروگرامس میں پھونک دینا ضروری ہے ۔
وزیراعظم مودی کے پروگرام کیلئے آندھراپردیش میں جو کچھ ہوا اس پر سوال ضروری ہے ۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وزیراعظم مودی کے روڈ شو سے لے کر ان گنت سرکاری افتتاحی تقاریب پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے کتنے ہزار کروڑ روپئے ابھی تک خرچ ہوگئے ہوں گے ۔ وزیراعظم مودی کا سرکاری پروگرام سادہ کیوں نہیں ہوسکتا کیا ہر بار ضروری ہے کہ ہزاروں لوگ بلائے جائیں پیسوں کا انتظام کیا جائے کروڑہا روپیہ پانی میں بہا دیا جائے ۔
عام عوام کے بینک میں Minimum اقل ترین بیالنس نہیں ہوتا تو بینک فوری فیس کاٹ لیتے ہیں۔ 5 سال میں اقل ترین بیالنس نہیں رکھنے والی غریب عوام کے کھاتے سے 25 ہزار کروڑ کی رقم کاٹ لی گئی لیکن آپ کو نہیں بتایا جارہا ہے کہ وزیراعظم مودی کے افتتاحی تقاریب اور شیلا نیاس جیسی سرکاری پروگرامس پر اسی عوام کے کتنے ہزار کروڑ روپئے پھونک دیئے گئے ۔
آندھراپردیش میں انٹرنیشنل ایرپورٹ کی افتتاحی تقریب میں رقص کیلئے قبائیلیوں کو مدعو کیا گیا لیکن ان کی اپنی ضرورتیں کیا ہیں؟ مسائل کیا ہیں۔ اس کا کچھ اتہ پتہ نہیں۔ ان کے رہنے کے علاقوں میں اسپتال اور اسکول کیسے ہیں معلوم نہیں لیکن روایات کے نام پر 13500 طالبات کو لگاتار پریکٹس کروائی گئی ہوگی تاکہ وزیراعظم مودی کا پروگرام شاندار کامیابی سے ہمکنار ہو اور یہ پروگرام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوجائے ۔
ان تمام کو ٹریننگ دینے کیلئے پریکٹس کروانے کیلئے کیا ہر بار ا یرپورٹ والے مقام پر لایا گیا یا ان کے اسکولوں میں ہی پریکٹس کا انتظام کیا گیا ۔ ایسی ایک بھی معلومات آپ کے پاس نہیں بس ویڈیو ہے جس میں ہزاروں طالبات ایک ساتھ رقص کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ تمام 8 ویں 9 ویں اور دسویں جماعت کی طالبات ہیں ۔ ہزاروں طالبات کی ٹریننگ چھپاکر نہیں ہوسکتی ۔
وزیراعظم مودی نے کہا کہ اب ہندوستان کی تہذیبی وراثت کا شاندار مظاہرہ لیکن کیا یہ سب پڑھائی کی قیمت پر ہونا چاہئے ۔ ان طالبات کی اسکولی پڑھائی سے زیادہ ایک بیرونی پرائیوٹ کمپنی کا سرٹیفکٹ کیسے اہم ہوسکتا ہے۔
50 طالبات کے 433 گروپ بنائے گئے پروگرام کے مقام تک لانے کیلئے 3 ہزار بسوں کا انتظام کیا گیا ، ان بسوں کے لانے لے جانے کا بھی خرچ ہے ۔ 13500 طالبات کے گلابی ڈریس اور سبز ڈوپٹے کیلئے بھی پیسے لگے ہوں گے ۔ اس کا جواب کیا ہے ؟ کیا ان ہزاروں طالبات کو کچھ پیسے بھی دیئے گئے ۔ یہ سوال اس لئے بھی پیدا ہوتا ہے کہ 2023 میں آسام میں قبائلی طالبات کو لے کر ایسا ہی پروگرام ہوا تب اس میں حصہ لینے والے ہر کسی کو 25 ہزار روپئے دیئے گئے ۔ باقاعدہ حکومت آسام نے اس کا اعلان کیا ہے ۔
یہی نہیں وزیراعظم مودی کے پروگرام سے پہلے آندھراپردیش کے اسپیشل چیف سکریٹری ایم وی کرشن بابو اور رام سندر ریڈی کے سامنے 5 ہزار طالبات کی پریکٹس ہوئی تھی ۔ اس پر خرچ کتنا ہوا ہے ، وہ خرچ کتنا تھا اس کا بھی حساب نہیں۔ ہندوستان میں تعلیمی بجٹ کا حال دیکھنے لگے تو ہندوستان کے پاس تعلیم کیلئے پیسے ہی نہیں مگر اس ہندوستان میں ہزاروں اسکولی طالبات کو گنیز بک اور وزیراعظم مودی کے خیر مقدم کے نام پر مظاہرہ کیلئے لایا جاتا ہے ۔ کروڑوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں اور کسی کو پرواہ نہیں ۔
2013-14 میں ہندوستان میں تعلیم کا بجٹ کل بجٹ کا 4.6 فیصد تھا جو 2025-26 میں بڑھ کر 2.5 فیصد ہوگیا ۔ دس سال میں 93 ہزار اسکولس بند ہوگئے اور دس سال میں سوا دو کروڑ بچے اسکول سے باہر ہوگئے ۔ اس ملک کے اسکولی بچیوں پر خرچ کرنے کیلئے پیسہ نہیں مگر ان کے ثقافتی پروگرام میں استعمال کیلئے حکومت نے پانی کی طرح پیسہ بہادیا۔
اب چلتے ہیں پارلیمنٹ کی طرف جہاں اپوزیشن مودی حکومت کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہے ۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک اپوزیشن امیت شاہ جواب دو کے نعرے بلند کرتا رہے گا ۔ اپوزیشن بار بار یہ سوال کر رہی ہے کہ امیت شاہ آخر ایوان میں کیوں نہیں آرہے ہیں۔ اپوزیشن پارلیمنٹ کے احاطہ میں ہر روز احتجاج کر رہی ہے ۔ بارش ہو یا نہ ہو امیت شاہ جواب دو کا بیانر دکھائی دیتا رہتا ہے۔ میڈیا کے کیمروں میں بھی امیت شاہ کا آنا جانا دکھائی نہیں دیتا اور نہ آف ریکارڈ خبریں آرہی ہیں کہ امیت شاہ پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آرہے ہیں۔
راہول گاندھی کہاں ہیں ؟ یہ سوال کھل کر پوچھنے والا گودی میڈیا وہی زبان میں بھی پوچھ نہیں پایا کہ امیت شاہ کہاں ہیں۔ جنتر منتر پر جانے والے یوٹیوبر رانچی کیوں نہیں جارہے ہیں۔ گودی میڈیا میں یہ سوال اٹھ رہا ہے۔ اسی گودی میڈیا میں یہ سوال اٹھ ہی نہیں پارہا کہ امیت شاہ کہاں ہیں، کئی دنوں سے راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں کیوں نہیں آرہے ہیں۔ ایسا کبھی آپ نے سنا ہے ۔ پارلیمنٹ آتے ہیں مگر ایوان میں نہیں آتے ، پارلیمنٹ کے دفتر میں بیٹھے رہتے ہیں مگر وزیر داخلہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں نہیں آتے۔
ابھیجیت دیپکے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ہیں۔ ان سے سوال ہورہا ہے کہ آپ رانچی کیوں نہیں ْارہے ہیں لیکن امیت شاہ سے کوئی گودی اینکر سوال ہی نہیں کر رہا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کیوں نہیں آتے ۔ آپ پارلیمنٹ کے دونوں ایوان کیوں نہیں آرہے ہیں۔ اجیت انجم صحافی ہیں ان کا ہندی کا کالم کوئی ہندی اخبار شائع کرنے کے ہمت نہیں کرتا اور نہ ہی اس آزاد صحافی کو کوئی گودی میڈیا کام دے گا۔ اجیت انجم اور ان جیسے کچھ یو ٹیوبر جنتر منتر بھی گئے اور آپ رانچی بھی گئے اور آپ امیت شاہ ہیں ملک کے وزیر داخلہ آپ نہ جنتر منتر گئے اور نہ ہی رانچی گئے ۔ وزیر داخلہ کو کسی مظاہرہ میں جانے کیلئے مجبور نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ سوال تو پوچھا ہی جاسکتا ہے کہ وزیر داخلہ امیت شاہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کیوں نہیں جارہے ہیں۔
امیت شاہ سے آسام کو لے کر بھی سوال ہوسکتا ہے ، وہاں خطرناک سیلاب ایا جس آسام میں امیت شاہ 2021 میں وعدہ کرچکے ہیں کہ 5 سال میں سیلاب کا مسئلہ ختم کردیا جائے گا ، کیا اس آسام کا دورہ امیت شاہ نے کیا ۔ گودی میڈیا نے پوچھا ؟ امیت شاہ کے اس بیان کو گودی میڈیا نے کتنی بار چلایا ہوگا۔ امیت شاہ آسام نہیں جارہے ہیں لیکن دہلی میں ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نہیں جارے ہیں ۔ یہ سوال بڑا ہونا چاہئے یا یہ سوال کہ جو یوٹیوبر جنتر منتر پر گئے وہ رانچی کیوں نہیں جارہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ امیت شاہ سے سوال نہیں کرپارہے ہیں تو ابھیجیت دیپکے یا اجیت انجم سے سوال کر رہے ہیں تاکہ ناظرین کو محسوس ہو کہ انہیں سوال کرنا بھی آتا ہے ۔
مودی حکومت FCRA ترمیمی بل لیکر آرہی ہے ۔ درمیان میں خبریں چلنے لگی ہیں کہ امیت شاہ ا یوان میں آئیں گے اور بل پیش کریں گے۔ اب خبر آرہی ہے کہ امیت شاہ عیسائی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے یعنی ایوان میں ان کے آنے کی بات محض گپ بازی ثابت ہوئی لیکن اس بل کے بہانہ امیت شاہ کو پھر سے جارحانہ انداز میں دکھایا جانے لگا کہ امیت شاہ آرہے ہیں ۔ آنے والے ہیں ، ایک نیا بل لیکر جس کے بعد ملک مخالف لوگوں کی فنڈنگ بند ہوجائے گی ۔
بی جے پی کے حامیوں باالفاظ دیگر امیت شاہ کے حامیوں کے ہینڈلس پر امیت شاہ کو لے کر ماحول بنایا جارہا ہے کہ آرہے ہیں مگر یہ سوال کہیں نہیں کہ دہلی تشدد پر امیت شاہ جواب دینے کیلئے پچھلے کچھ عرصہ سے کیوں نہیں آرہے ہیں۔ اچھے خاصے دن گزرچکے ہیں ، ایک بیان تک نہیں دے پائے ۔ کانگریس بھی اس پوسٹر وار اور ویڈیو وار میں کود پڑی ہے اس کے ہینڈل پر شاہ کے پارلیمنٹ نہ آنے پر کئی سارے پوسٹرس ہیں اور ویڈیو جاری کئے گئے ہیں جس میں کہا گیا کہ وہ راہول گاندھی جی کے سوالوں سے بچنے اور ان سے ڈر کے مارے ایوان میں نہیں آرہے ہیں۔ ٹی ایم سی کی میوہ موئترہ نے پارلیمنٹ کے احاطہ میں ایک پوسٹر تھام کر تصویر لی ہے جس میں امیت شاہ کی تصویر پر گمشدہ یا Missing لکھا گیا ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر امیت شاہ اپوزیشن کے جواب دینے سے اور پارلیمنٹ آنے سے گریز کیوں کر رہے ہیں۔



