
ملک دشمن اور بیرونی ہاتھ کے تصور کا سفر | رام چندر گوہا
ملک دشمن کا الزام اور ’’غیر ملکی ہاتھ‘‘ کا تصور: اندرا گاندھی سے نریندر مودی تک
ممتاز برطانوی مورخ اے جے پی ٹیلر نے جدید جرمنی، جدید برطانیہ اور دو جنگ عظیم کے ساتھ ساتھ میڈیا کی مشہور و معروف شخصیت لارڈ بیوربروک کی سوانح حیات غیر معمولی انداز میں پیش کی ہے خاص طور پر جدید جرمنی، جدید برطانیہ اور دو جنگ عظیم پر انہوں نے جو کام کیا ہے وہ یقینا قابل تعریف ہے لیکن وہ خود اپنی کتاب TROUBLE MAKERS کو بہترین کتاب قرار دیتے تھے۔ جو اُن اختلاف رائے رکھنے والے انگریزوں پر مبنی تھی جنہوں نے اپنے ملک کی توسیع پنسدانہ اور سامراجی خارجہ پالیسیوں کی مخالفت کی۔
اپنے دور کی آکسفورڈ کی علمی دنیا میں اے جے پی ٹیلر خود کسی حد تک ہنگامہ برپا کرنے والی شخصیت ہوا کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس کتاب کو اپنی بہترین تصنیف سمجھتے تھے۔ آج بھی یہ کتاب بہت ہی دلچسپ اور قابل مطالعہ ہے اور خاص طور پر اس میں بے شمار ایسی شخصیتوں کا ذکر کیا گیا جن کے بارے میں لوگ یقینا پڑھنا چاہیں گے۔
اے جے پی ٹیلر کے ان ہنگامہ برپا کرنے والوں میں انیسویں صدی کے آزاد خیال سیاستداں جان برائٹ بھی شامل تھے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ممتاز مورخ Asa Briggs نے انہیں ملکہ وکٹوریہ کے وسطی دور کی انقلابی سیاست کی سب سے اہم شخصیت قرار دیا۔
واضح رہے کہ جان برائٹ ایک غیر معمولی مقرر تھے اور ہاوس آف کامن پاوارلعوام میں ان کی کی گئی تقاریر یا خطابات میں بیرون ملک برطانیہ کی فوجی مہمات مثلاً 1850 کی دہائی کی جنگ کریمپاپر شدید تنقید کی گئی۔ سرکاری پالیسیوں پر ان کی نکتہ چینی سے قدامت پسند سیاستداں سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے جان برائٹ پر قومی مفادات سے غداری کا الزام عائد کیا لیکن ان الزامات کا جواب دیتے ہوئے جان برائٹ نے کچھ یوں کہا تھا ’’آخر یہ کیسے ممکن ہیکہ میں یا آپ لوگوں میں سے کوئی بھی انگریز نہ ہو یا قوم دشمن ہو۔ کیا میری پیدائش اس سرزمین پر نہیں ہوئی؟ کیا میں انگریزی نسل سے تعلق نہیں رکھتا جس سے آپ تعلق رکھتے ہیں؟ کیا میرا خاندان برطانیہ کی تقدیر سے ہمیشہ کے لئے وابستہ نہیں؟ کیا میری جائیداد بھی آپ کی جائیداد کی طرح ہمارے وطن کی اچھی حکومت پر منحصر نہیں؟ پھر صرف اس وجہ سے کہ کوئی شخص عوامی پالیسی کے اہم امور پر مختلف رائے رکھتا ہے آپ اسے غیر انگریز یا قوم دشمن کیسے قرار دے سکتے ہیں‘‘،
میں نے یہ الفاظ زائد از 30 برس قبل پڑھے تھے۔ ان الفاظ کا مجھ پر فوراً گہرا اثر ہوا کیونکہ ’’قوم دشمن کی تہمت میرے دور نوجوانی کے ہندوستان میں ہر طرف استعمال ہوتی تھی اور یہ الزام کسی اور نے نہیں بلکہ خود ہمارے وزیر اعظم نے عام کیا تھا۔
1971 میں عوامی تائید و حمایت کے ساتھ منتخب ہونے والی اندرا گاندھی رفتہ رفتہ زیادہ آمرانہ طرز حکومت اختیار کرتی گئی۔ انہوں نے اختلاف رائے کو دبا یا عوامی؍ سرکاری اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کی اور کانگریس پارٹی کو ایک خاندانی اور موروثی جماعت میں تبدیل کردیا جب مجاہد آزادی جے پرکاش نارائن (جے پی) کی قیادت میں عوامی تحریک نے ان کی پالیسیوں کو چیالنج کیا تو اندرا گاندھی نے دعویٰ کیا کہ اس تحریک کے رہنما غیر ملکی طاقتوں کے ایجنٹ ہیں اور ان تمام کو جیل میں ڈال دیا۔
ہندوستانی سیاسی گفتگو میں دیکھا جائے تو اندرا گاندھی نے ’’غیر ملکی ہاتھ‘‘ کا تصور پیش کیا یعنی ان کی حکومت کے خلاف جب بھی کوئی احتجاج ہوتا یا آواز اٹھتی تو وہ اور ان کے حامی فوری کہہ دیتے کہ اس کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے۔ اس طرح ہندوستانی سیاست میں انہوں نے پہلی مرتبہ غیر ملکی ہاتھ کا تصور پیش کیا لیکن اس غیر ملکی ہاتھ کی قومیت کا تعین کرنا مشکل تھا۔ اگرچہ اندازہ یہی تھا کہ وہ مغربی سفید فام طاقتوں کی طرف اشارہ تھا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ایمرجنسی کے اعلان کے ایک ہفتہ بعد وزیر اعظم نے ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کا مقصد بالکل واضح تھا اور وہ نہ صرف حکومت بلکہ سارے قومی نظام کو مفلوج کردیتا اور قوم کی نعش پر چل کر اقتدار حاصل کرنا تھا۔ اندرا گاندھی کے مطابق حالات اس قدر دگرگوں ہوگئے تھے کہ اگر مزید چند قدم اٹھائے جاتے تو ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا اور غیر ملکی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا۔
بہرحال حالیہ برسوں میں ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی جو اپنے آمرانہ طرز عمل میں اندرا گاندھی سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں بلکہ بعض لوگوں کی نظر میں مودی جی اس معاملہ میں اندرا گاندھی سے بھی آگے ہیں باالفاظ دیگر اندرا گاندھی سے بھی آگے نکل چکے ہیں انہوں نے بھی ناراض عناصر اور اپنے ناقدین کو بدنیت اور قوم دشمن قرار دیا۔
آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ مودی کے حامی ان کی پالیسیوں کے مخالفین پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا ہمیشہ خواہاں رہنے والے پڑوسی ملک پاکستان کے ایجنٹ ہیں یا پھر امریکی صنعت کار و سرمایہ کار جارج سوروس کے مفادات کی نگہبانی کررہے ہیں۔
حد تو یہ ہیکہ مودی حکومت کی اکثریت پسندی اور آمرانہ رجحانات کی جو کوئی مخالفت کرتا ہے اس پر ٹکڑے ٹکڑے گینگ کا لیبل چسپاں کردیا جاتا ہے۔ ایسے جیسے وہ غیر ملکی طاقتوں کے اشاروں پر ملک کو توڑنے کی سازش کررہے ہوں۔
مودی کے ناقدین کے خلاف جہاں ٹکڑے ٹکڑے گینگ جیسی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے وہیں اربن تکسل اور میکالے پتر جیسی اصطلاحات بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
مودی حکومت اور اس کے حامیوں کی اس ذہنیت کی تازہ ترین مثال نیٹ پیپر لیک کے خلاف طلبا کی احتجاجی مہم ہے۔ سنگھ پریوار نے طلبہ کی اس احتجاجی مہم کے خلاف جوابی مہم چلائی حالانکہ طلبہ پر امن اور پرسکون طریقہ سے اور بعض اوقات نجی طور پر نقصانات برداشت کرکے سرکاری تعلیمی نظام میں موجود خامیوں اور بدعنوانیوں کی جانب توجہ دلانے میں مصروف تھے لیکن ان کے احتجاج کے بارے میں بناء کسی ثبوت و شواہد کے بے بنیاد طور پر یہ کہا گیا کہ احتجاج میں شامل طلبہ مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہیں یا انہیں ہندوستان توڑنے کی خواہاں بیرونی اقتوں سے مالی مدد مل رہی ہے۔



