سرورققومی خبریں

رام چندر چھترپتی قتل کیس: رام رحیم کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ کا نوٹس، CBI سے جواب طلب

رام چندر چھترپتی کے بیٹے نے ہائی کورٹ کے بریت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا،

نئی دہلی، 10 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): صحافی رام چندر چھترپتی کے قتل کے مقدمے میں ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم کو ملی بریت اب سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ نے پیر کو گرمیت رام رحیم اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا ہے۔

جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی بنچ نے معاملے کی سماعت 16 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں کرنے کی ہدایت دی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزار رام چندر چھترپتی کے بیٹے ہیں، جنہوں نے اپنے والد کے قتل کے مقدمے میں گرمیت رام رحیم کی بریت کو چیلنج کیا ہے۔

رام چندر چھترپتی نے اپنے اخبار کے ذریعے ڈیرہ سچا سودا سے متعلق کئی اہم اور حساس معاملات کو سامنے لایا تھا۔ اکتوبر 2002 میں انہیں ان کے گھر کے باہر گولی مار دی گئی تھی۔ شدید زخمی حالت میں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں تقریباً ایک ماہ تک علاج کے بعد 21 نومبر 2002 کو ان کی موت ہوگئی۔ بعد میں اس قتل کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے کی گئی تھی۔

پنچکولہ کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے جنوری 2019 میں رام چندر چھترپتی قتل کیس میں گرمیت رام رحیم سمیت چار افراد کو قصوروار قرار دیا تھا۔ عدالت نے گرمیت رام رحیم کے علاوہ کُلدیپ سنگھ، نرمل سنگھ اور کرشن لال کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف گرمیت رام رحیم اور دیگر ملزمان نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ مارچ 2026 میں ہائی کورٹ نے گرمیت رام رحیم کو اس مقدمے میں بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے قصوروار ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ سطح کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ تاہم عدالت نے کُلدیپ سنگھ، نرمل سنگھ اور کرشن لال کی عمر قید کی سزاؤں کو برقرار رکھا تھا۔

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب رام چندر چھترپتی کے بیٹے نے سپریم کورٹ کا رخ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری نوٹس کے بعد گرمیت رام رحیم اور سی بی آئی کو اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ عدالت نے معاملے کی باقاعدہ سماعت نومبر میں رکھنے کی بات کہی ہے۔

گرمیت رام رحیم پہلے ہی دو سادھویوں سے عصمت دری کے مقدمے میں سزا کاٹ رہا ہے۔ اسے 2017 میں اس معاملے میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ جیل میں سزا کے دوران اسے متعدد مرتبہ پیرول اور فرلو بھی مل چکی ہے۔ رہائی کے دوران وہ اتر پردیش کے باغپت میں واقع ڈیرہ سچا سودا کے برناوا آشرم میں قیام کرتا رہا ہے۔

ڈیرہ سچا سودا کا مرکزی مرکز ہریانہ کے سِرسا میں واقع ہے، جبکہ تنظیم کے پیروکار ہریانہ، پنجاب اور راجستھان سمیت شمالی ہندوستان کی متعدد ریاستوں میں موجود ہیں۔ گرمیت رام رحیم کو پیرول اور فرلو ملنے کا معاملہ بھی وقتاً فوقتاً سیاسی اور سماجی بحث کا حصہ بنتا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button