
راجیہ سبھا میں بینکرز بکس ایویڈنس بل 2026 منظور، اپوزیشن کا ایوان سے واک آؤٹ
1891 کے پرانے قانون کی جگہ ڈیجیٹل بینکنگ کے مطابق نیا قانونی فریم ورک، اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان بل منظور
نئی دہلی، 10 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): راجیہ سبھا نے پیر کو بینکرز بکس ایویڈنس بل 2026 کو صوتی ووٹ سے منظور کر لیا۔ بل پر تفصیلی بحث شروع ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔ یہ بل اس سے قبل لوک سبھا سے بھی منظور ہو چکا ہے اور اس کا مقصد 1891 کے بینکرز بکس ایویڈنس ایکٹ کی جگہ جدید قانونی نظام نافذ کرنا ہے۔
ایوان کی کارروائی دن میں کئی مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو نائب چیئرمین ہری ونش نارائن سنگھ نے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کو بل کو زیر غور لانے کی تجویز پیش کرنے کے لیے بلایا۔ اپوزیشن ارکان نے اس دوران نعرے بازی جاری رکھی۔ نائب چیئرمین نے قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے کو یقین دلایا کہ وہ ایوان کے قواعد کے تحت اپنی بات رکھ سکتے ہیں، تاہم ان کی گفتگو کو زیر بحث بل تک محدود رہنا ہوگا۔ اس دوران حکمراں اور اپوزیشن ارکان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔
ہنگامے کے دوران ملکارجن کھرگے نے بلند آواز میں ’’چندہ چور‘‘ کے الفاظ کہے، تاہم شور شرابے کے باعث ان کی بات پوری طرح واضح نہیں ہو سکی۔ نائب چیئرمین نے ارکان سے بار بار اپیل کی کہ وہ بل کے موضوع پر گفتگو کریں اور ایوان کی کارروائی کو آگے بڑھنے دیں۔
بل پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان میں ترنمول کانگریس کے محمد ندیم الحق، بی جے پی کے ارون سنگھ، بیجو جنتا دل کے مانس رنجن منگراج، وائی ایس آر کانگریس کے ایس نرنجن ریڈی، این سی پی کے راجندر ہیرالال جین، ٹی ڈی پی کے بھاشیم رام کرشن، وی آر ایس کے روی چندر وڈی راجو، ڈی ایم ڈی کے کے ایل کے سدیش، اے آئی اے ڈی ایم کے کے ڈاکٹر ایم دھن پال اور شیوسینا کی ڈاکٹر جیوتی ناتھ واگھمارے شامل تھے۔
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بل کی ضرورت بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قانون 1891 میں اس وقت بنایا گیا تھا جب بینکوں کے ریکارڈ بنیادی طور پر کاغذی شکل میں محفوظ کیے جاتے تھے۔ اس قانون کے تحت بینکنگ ریکارڈ کی تصدیق شدہ نقول کو عدالتوں میں ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا تھا، جس سے بینک افسران کو اصل رجسٹر اور کھاتے لے کر عدالت میں حاضر ہونے کی ضرورت کم ہو جاتی تھی۔
نرملا سیتارمن کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں بینکنگ نظام میں بڑی تبدیلی آئی ہے اور اب مالیاتی ریکارڈ بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل طریقے سے تیار، محفوظ اور برقرار رکھے جاتے ہیں۔ اسی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے پرانے قانونی فریم ورک کو جدید بنانے کے لیے نیا بل پیش کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نئے قانون میں مالیاتی معلومات کی رازداری اور ضروری حفاظتی اقدامات کو اہمیت دی گئی ہے۔ بل پر بحث کرنے والے ارکان نے بھی ڈیجیٹل بینکنگ کے موجودہ ماحول کے مطابق قانون میں تبدیلی کی ضرورت کی حمایت کی، تاہم ساتھ ہی بینک صارفین کے ڈیٹا، رازداری اور مالیاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق مناسب ضمانتوں کی ضرورت پر زور دیا۔
اس سے قبل پیر کی دوپہر راجیہ سبھا کی کارروائی 2 بج کر 15 منٹ تک ملتوی کی گئی تھی۔ نائب چیئرمین کی جانب سے وزیر خزانہ کو بل پر بات کرنے کے لیے بلانے کے فوراً بعد اپوزیشن کا احتجاج شروع ہو گیا اور تقریباً دو منٹ کے اندر کارروائی متاثر ہوئی۔ بعد میں ایوان دوبارہ جمع ہوا اور حکومت نے بل کو صوتی ووٹ سے منظور کرا لیا۔



