
صابن، بسکٹ اور شیمپو مزید مہنگے ہونے کا امکان، ستمبر میں FMCG کمپنیوں کی قیمت بڑھانے کی تیاری
خام مال کی بڑھتی لاگت کے درمیان بریٹانیا، گودریج، ڈابر، HUL اور ٹاٹا کنزیومر کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے اشارے
نئی دہلی، 10 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) روزمرہ استعمال کی اشیا خریدنے والے صارفین کے لیے آنے والے دنوں میں گھریلو بجٹ مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ بسکٹ، صابن، شیمپو، چائے، کافی اور دیگر فاسٹ موونگ کنزیومر گڈس یعنی ایف ایم سی جی مصنوعات تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کی جانب سے ستمبر سہ ماہی میں منتخب اشیا کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ خام مال کی لاگت، عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات کو اس ممکنہ اضافے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ایف ایم سی جی شعبے کی کئی کمپنیوں نے جون سہ ماہی کے دوران اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 2 سے 5 فیصد تک اضافہ کیا تھا۔ اب ستمبر سہ ماہی کے لیے بھی اسی نوعیت کے مزید اقدامات کے اشارے مل رہے ہیں۔ تاہم کمپنیاں ہر مصنوعات پر براہ راست قیمت بڑھانے کے بجائے بعض مقامات پر شرنک فلیشن کا طریقہ بھی استعمال کر رہی ہیں۔ اس حکمت عملی میں مصنوعات کی قیمت وہی رکھی جاتی ہے لیکن پیکٹ کے اندر موجود مقدار کم کر دی جاتی ہے، جس سے صارف کو بظاہر قیمت میں اضافہ نظر نہیں آتا۔
کمپنیوں کے لیے چینی، پام آئل، خام تیل اور دیگر اہم خام مال کی قیمتیں اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان اشیا کی لاگت میں تبدیلی براہ راست مصنوعات کی تیاری کے اخراجات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مانسون کی صورتحال اور ال نینو جیسے موسمی عوامل بھی زرعی پیداوار اور خام مال کی دستیابی پر اثر ڈال سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمپنیوں کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
بریٹانیا انڈسٹریز نے ستمبر سہ ماہی میں تقریباً 1.5 سے 2 فیصد کے پرائسنگ اثرات کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق گزشتہ سہ ماہی میں قیمتوں سے متعلق اثر بڑی حد تک شرنک فلیشن کے ذریعے سامنے آیا تھا۔ اس کا اثر خاص طور پر 5 اور 10 روپے والے بسکٹ پیکس میں مقدار کم کیے جانے کی صورت میں دکھائی دے سکتا ہے۔ کمپنی کے ایم ڈی اور سی ای او رکشیت ہرگیو کے مطابق موجودہ سہ ماہی میں بھی تقریباً 1.5 سے 2 فیصد کا مزید پرائسنگ اثر سامنے آنے کا امکان ہے۔
بریٹانیا کا کہنا ہے کہ صارفین کی طلب مجموعی طور پر برقرار ہے اور کمپنی بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود مالی سال 2027 میں EBITDA مارجن کو مالی سال 2026 کی سطح کے قریب رکھنے کی کوشش کرے گی۔ کمپنی کی حکمت عملی میں قیمتوں کے ساتھ ساتھ اخراجات کو قابو میں رکھنے پر بھی توجہ شامل ہے۔
گودریج کنزیومر پروڈکٹس نے جون سہ ماہی میں اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اوسطاً تقریباً 5 فیصد اضافہ کیا تھا۔ کمپنی کی جانب سے ستمبر سہ ماہی میں بھی قیمتوں میں اسی نوعیت کی تبدیلی کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم خام تیل کی قیمتوں کے آئندہ رجحان کے بارے میں مکمل وضاحت نہ ہونے کے باعث کمپنی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ڈابر انڈیا کے مطابق خام مال کی قیمتوں سے پیدا ہونے والا دباؤ فوری طور پر ختم ہونے کی توقع نہیں ہے۔ کمپنی ایسی صورتحال میں منتخب مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے ساتھ پیداواری لاگت کم کرنے اور کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دے گی۔ ڈابر نے مالی سال 2027 میں آمدنی میں دوہرے ہندسے کی شرح سے اضافہ برقرار رہنے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔
ہندوستان یونی لیور یعنی HUL نے بھی ستمبر سہ ماہی میں مختلف مصنوعات کی کیٹیگریز میں قیمتوں میں اضافے کے اشارے دیے ہیں۔ کمپنی کے اندازے کے مطابق اپریل سے جون کی مدت کے مقابلے میں ستمبر سہ ماہی کے دوران 2 سے 5 فیصد تک ترتیب وار لاگت کا دباؤ سامنے آ سکتا ہے، جس کے اثرات صارفین تک پہنچنے کا امکان ہے۔
ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس نے بھی کہا ہے کہ خام مال کی قیمتوں میں مسلسل تبدیلی کے باعث ضرورت پڑنے پر مستقبل میں مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی خام مال کے نرخوں اور مجموعی لاگت پر مسلسل نظر رکھ رہی ہے تاکہ قیمتوں سے متعلق فیصلے مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق کیے جا سکیں۔
ایف ایم سی جی کمپنیوں کے لیے مغربی ایشیا کی صورتحال بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا اثر خام تیل اور دیگر عالمی اجناس کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے، جس سے مصنوعات کی تیاری اور ترسیل کے اخراجات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نیسلے انڈیا نے بھی جغرافیائی سیاسی حالات اور مہنگائی سے متعلق دباؤ کو اہم عوامل میں شمار کیا ہے۔
نیسلے انڈیا کے مطابق موجودہ غیر یقینی ماحول میں مختصر مدت کے دوران مجموعی صارف طلب میں کچھ نرمی دیکھی جا سکتی ہے۔ اگر خام مال کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو ایف ایم سی جی کمپنیوں کے لیے قیمتوں میں محدود اضافہ، پیکٹ کا سائز کم کرنا اور پیداواری لاگت کو قابو میں رکھنا اہم حکمت عملی بن سکتی ہے۔ اس صورت میں بسکٹ، صابن، شیمپو، چائے، کافی اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیا کی خریداری پر صارفین کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کرنا پڑ سکتا ہے۔



