قومی خبریں

پارلیمنٹ میں NEET احتجاج اور رام مندر عطیہ چوری پر بحث کا اب بھی وقت ہے: اکھلیش یادو

FCRA پر اکھلیش کا حکومت سے سوال،ہندوستان کا کتنا پیسہ بیرونِ ملک جا رہا ہے؟

نئی دہلی: سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے مانسون اجلاس کے دوران مرکزی حکومت کو ایک ساتھ کئی اہم معاملات پر گھیرتے ہوئے NEET طلبہ کے احتجاج، رام مندر کے عطیات سے متعلق تنازع اور غیر ملکی فنڈنگ کے قانون FCRA پر سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ابھی دو دن باقی ہیں اور حکومت چاہے تو ان تمام معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ تفصیلی گفتگو کر سکتی ہے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اپوزیشن شروع سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ NEET امیدواروں کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر مرکزی حکومت ایوان میں اپنا موقف واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں وزیر داخلہ کی جانب سے بیان دیا جانا چاہیے تاکہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ ہونے والی کارروائی پر حکومت کا مؤقف سامنے آ سکے۔

ایس پی سربراہ نے واضح کیا کہ احتجاج کا معاملہ صرف NEET امیدواروں تک محدود نہیں تھا۔ ان کے مطابق مختلف امتحانات سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے نوجوان اور طلبہ بھی اس سے جڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے پیپر لیک جیسے معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جن نوجوانوں کے امتحانات متاثر ہوئے، ان کے مسائل اور احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کو بھی پارلیمنٹ میں سنجیدگی سے اٹھایا جانا چاہیے۔

اکھلیش یادو نے رام مندر کے عطیات سے متعلق مبینہ چوری کے معاملے پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے عقیدت مندوں نے مذہبی عقیدت کے ساتھ مندر کے لیے عطیات دیے ہیں، اس لیے ان عطیات سے متعلق کسی بھی تنازع کو معمولی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے سے کروڑوں لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں اور حکومت کو پارلیمنٹ میں اس پر اپنا موقف رکھنا چاہیے۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگر رام مندر کے عطیات سے متعلق معاملہ اتنا اہم ہے تو حکومت پارلیمنٹ میں اس پر بحث سے گریز کیوں کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو نے یہ بھی پوچھا کہ کیا اس معاملے میں حکومت یا بی جے پی سے وابستہ کسی شخص کا کوئی کردار ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت کو کھل کر وضاحت کرنی چاہیے۔

اسی گفتگو کے دوران اکھلیش یادو نے فارن کنٹریبیوشن ریگولیشن ایکٹ (FCRA) کے حوالے سے بھی مرکزی حکومت سے سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک سے ہندوستان آنے والے فنڈز پر مختلف قوانین اور پابندیاں موجود ہیں، لیکن یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ ہندوستان سے بیرونِ ملک کتنا پیسہ منتقل ہو رہا ہے اور اس سرمائے کے حوالے سے حکومت کی پالیسی کیا ہے۔

ایس پی سربراہ نے سوال کیا کہ حکومت ہندوستانی پیسے کے بیرونِ ملک جانے پر کب روک لگائے گی اور اس حوالے سے اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کا بڑی مقدار میں سرمایہ پہلے ہی بیرونِ ملک جا چکا ہے اور حکومت کو اس بارے میں واضح اعداد و شمار پارلیمنٹ کے سامنے رکھنے چاہئیں۔

FCRA کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ غیر ملکی فنڈنگ کی نگرانی اور اس کے غلط استعمال کو روکنا ضروری ہے، لیکن حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس قانون کا استعمال کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کہیں FCRA کی کارروائی مخصوص طبقات، بالخصوص اقلیتوں کو پریشان کرنے تک تو محدود نہیں ہو رہی۔

اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کے دور اقتدار میں امیر اور بڑے لوگوں کے ’اچھے دن‘ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک کا سرمایہ بڑی مقدار میں بیرونِ ملک منتقل ہو رہا ہے تو حکومت کو اس معاملے میں شفافیت کے ساتھ مکمل معلومات عوام اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھنی چاہئیں۔

مانسون اجلاس کے آخری دنوں میں اکھلیش یادو کے یہ سوالات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اپوزیشن NEET طلبہ کے احتجاج، رام مندر عطیات سے متعلق تنازع اور غیر ملکی فنڈنگ سمیت مختلف معاملات پر حکومت سے جواب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ اجلاس ختم ہونے سے پہلے حکومت کے پاس ان مسائل پر پارلیمنٹ میں اپنا موقف واضح کرنے کا موقع موجود ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button