
ایودھیا کیس کے بعد محمود پراچہ پر ایک اور مشکل، 6 لاکھ جرمانے کی وصولی کے لیے جائیداد ضبط کرنے کا حکم
محمود پراچہ کے خلاف دہلی عدالت کی سخت کارروائی، جرمانہ ادا نہ کیا تو جائیداد ضبط ہوگی
نئی دہلی، 19 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)ن 2019 کے ایودھیا فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرنے والے سینئر ایڈووکیٹ محمود پراچہ کے خلاف 6 لاکھ روپے کے جرمانے کی عدم ادائیگی پر دہلی کی عدالت نے سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے جرمانے کی رقم وصول کرنے کے لیے ان کی منقولہ جائیداد ضبط کرنے کا وارنٹ جاری کردیا ہے۔
ایڈیشنل سینئر سول جج میدھا آریہ نے 14 اگست 2026 کو جاری حکم میں عدالت کے مقرر کردہ بیلف کو ہدایت دی کہ وہ محمود پراچہ کی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی مکمل کرے۔ حکم کے مطابق ضرورت پڑنے پر بیلف کو تالے توڑ کر جائیداد ضبط کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ معاملے کی آئندہ سماعت یکم اکتوبر 2026 کو مقرر کی گئی ہے۔
یہ کارروائی نئی دہلی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی (NDLSA) کی جانب سے دائر ایگزیکیوشن پٹیشن کے بعد سامنے آئی۔ عدالت کے مطابق محمود پراچہ کو جرمانے کی ادائیگی اور اس کے خلاف اعتراض پیش کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے، تاہم جرمانے کے خلاف کوئی اعتراض داخل نہیں کیا گیا۔
محمود پراچہ نے 2019 میں سپریم کورٹ کے ذریعے سنائے گئے ایودھیا اراضی تنازع کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے سول مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کی درخواست میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر دوبارہ غور اور اسے غیر مؤثر قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔
ٹرائل کورٹ نے اپریل 2025 میں یہ مقدمہ خارج کرتے ہوئے محمود پراچہ پر ایک لاکھ روپے کی لاگت عائد کی تھی۔ پراچہ نے اس فیصلے کے خلاف ضلع عدالت سے رجوع کیا، تاہم ضلع جج دھرمندر رانا نے 18 اکتوبر 2025 کو ان کی درخواست مسترد کردی۔
ضلع عدالت نے نہ صرف ماتحت عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا بلکہ مزید 5 لاکھ روپے کی لاگت بھی عائد کردی۔ اس طرح مجموعی جرمانہ 6 لاکھ روپے تک پہنچ گیا۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پہلے عائد کیا گیا ایک لاکھ روپے کا جرمانہ مطلوبہ روک تھام پیدا کرنے میں ناکام رہا، اس لیے غیر ضروری اور بے بنیاد مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کے لیے جرمانے میں اضافہ ضروری ہے۔
محمود پراچہ کی جانب سے دائر مقدمے کی بنیادی دلیل سابق چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی 2024 میں پونے میں کی گئی ایک تقریر سے متعلق تھی۔
پراچہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق چیف جسٹس نے ایودھیا معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حل کے لیے خدا سے دعا کی تھی۔ ان کے مطابق اس بیان سے 2019 کے فیصلے کی غیر جانب داری اور قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔
تاہم عدالت نے اس تشریح کو مسترد کردیا۔ ضلع عدالت نے قرار دیا کہ خدا سے رہنمائی طلب کرنے کا ذکر ایک روحانی اظہار تھا اور اسے عدالتی فیصلے میں جانبداری، بیرونی مداخلت یا کسی قانونی بے ضابطگی کے اعتراف کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ دستیاب عدالتی رپورٹوں کے مطابق سابق چیف جسٹس کے بیان کے انگریزی متن میں رام للا کا براہِ راست حوالہ نہیں تھا بلکہ ایودھیا معاملے کے حل کے لیے خدا سے دعا کا ذکر تھا۔
ضلع عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا کہ محمود پراچہ ایودھیا کے اصل اراضی تنازع میں فریق نہیں تھے، اس لیے انہیں اس مقدمے کے ذریعے 2019 کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا مطلوبہ قانونی حق حاصل نہیں تھا۔
عدالت نے مزید جسٹس پروٹیکشن ایکٹ 1985 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فرائض کی انجام دہی کے دوران ججوں کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی پر قانونی پابندیاں موجود ہیں۔
عدالت نے سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کو بھی اس مقدمے میں رام للا وراجمان کے ’’نیکسٹ فرینڈ‘‘ کے طور پر شامل کیے جانے پر اعتراض کیا۔ جج نے اس عمل کو ایک ایسے رجحان سے جوڑا جس میں بعض اوقات سرکاری عہدیداروں کو عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی قانونی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ضلع جج دھرمندر رانا نے اپنے فیصلے میں عدالتوں پر بڑھتے ہوئے مقدمات کے بوجھ کا بھی ذکر کیا۔ عدالت کے مطابق غیر ضروری اور بے بنیاد مقدمات نہ صرف عدالتی وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ پہلے سے زیرِ التوا مقدمات کے بوجھ میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔
عدالت نے اس معاملے میں عائد کردہ جرمانے کو محض مالی سزا کے بجائے غیر سنجیدہ اور فضول مقدمہ بازی کی حوصلہ شکنی کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ اسی بنیاد پر ماتحت عدالت کی جانب سے عائد ایک لاکھ روپے کی لاگت کو بڑھا کر مجموعی طور پر 6 لاکھ روپے کردیا گیا تھا۔
اب جرمانے کی رقم کی عدم ادائیگی کے بعد عدالت کی جانب سے منقولہ جائیداد ضبط کرنے کے وارنٹ کے اجرا سے معاملہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ آئندہ کارروائی اور جرمانے کی وصولی سے متعلق پیش رفت یکم اکتوبر 2026 کی سماعت میں سامنے آسکتی ہے۔



