بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کے حکم کے باوجود شمالی کوریا کا سخت مؤقف، امریکہ جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں پر ’سیلف ڈیفنس‘ کی وارننگ

ہم دشمنوں کے فوجی خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے اپنے دفاع کا حق استعمال کریں گے۔

سیول، 19 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کا دائرہ کار کم کرنے کی ہدایت کے باوجود شمالی کوریا نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرنے کی وارننگ دی ہے۔ پیانگ یانگ نے ’الچی فریڈم شیلڈ‘ (UFS) فوجی مشقوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے والی سرگرمی قرار دیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA کے مطابق، پیانگ یانگ نے امریکہ اور جنوبی کوریا پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی فوجی مشقیں کر رہے ہیں جو شمالی کوریا کے لیے براہ راست فوجی خطرہ ہیں۔ شمالی کوریا نے کہا کہ وہ دشمن قوتوں کے فوجی خطرے کو مکمل طور پر بے اثر کرنے کے لیے اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔

پیانگ یانگ نے اپنے بیان میں ٹرمپ کی جانب سے مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کی ہدایت کا براہ راست حوالہ نہیں دیا، تاہم یہ وارننگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور سیول نے رواں ہفتے شروع ہونے والی مشقوں کو مقررہ مدت سے پہلے ختم کرنے اور ان کے بعض عملی حصوں کو محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کی سالانہ Ulchi Freedom Shield مشقیں 17 اگست کو شروع ہوئی تھیں۔ ابتدائی طور پر ان کا دورانیہ تقریباً 11 دن مقرر تھا، تاہم ٹرمپ کی ہدایت کے بعد دونوں ممالک نے مشقوں کو 21 اگست تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض فیلڈ ٹریننگ سرگرمیوں کو بھی کم یا تبدیل کیا گیا ہے۔

امریکی حکام اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ مشقوں میں کمی کے باوجود اتحادی افواج کی مشترکہ دفاعی صلاحیت اور اہم تربیتی اہداف برقرار رہیں گے۔ امریکی فوج کے مطابق UFS کا مقصد مختلف ممکنہ سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ دفاعی تیاری اور امریکہ، جنوبی کوریا اور متعلقہ اتحادی افواج کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر مشترکہ فوجی مشقوں کو مہنگا قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی سرگرمیاں شمالی کوریا کو غلط پیغام دیتی ہیں۔ امریکی صدر نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا بھی حوالہ دیا اور مشترکہ مشقوں میں کمی کی ہدایت کی۔

ٹرمپ کے اس اقدام کو شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوشش کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم پیانگ یانگ نے اس پیش رفت کے باوجود امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی سرگرمیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔

جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بدھ کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ سیول کو امریکی صدر کی جانب سے فوجی مشقوں میں کمی کی ہدایت کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اور امریکی حکام بھی ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر کیے گئے اعلان سے پہلے اس فیصلے سے آگاہ نہیں تھے۔

جنوبی کوریا نے اس کے باوجود امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون اور مشترکہ فوجی تیاری برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شمالی کوریا طویل عرصے سے امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کو اپنے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری قرار دیتا آیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مشقیں محض دفاعی نوعیت کی نہیں بلکہ حقیقی جنگ کی تیاری سے مشابہ ہیں۔

تازہ بیان میں پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ دشمن قوتوں کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے مقابلے میں وہ مزید واضح اور مؤثر اقدامات کرے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے فوجی مشقوں میں کمی کا فیصلہ فوری طور پر شمالی کوریا کے سخت مؤقف کو تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button