
ٹرمپ کی ایران کو انتہائی سخت پابندیوں کی دھمکی، آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہونے کا دعویٰ
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز فی الحال بحری آمدورفت کے لیے کھلا ہے۔
واشنگٹن، 20 اگست 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ تہران کو ’’انتہائی سخت پابندیوں‘‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب انہوں نے آبنائے ہرمز کی مستقبل میں اہمیت کم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ میں توانائی کی پیداوار میں اضافے اور متبادل سپلائی راستوں کے باعث دنیا کا اس اہم آبی گزرگاہ پر انحصار پہلے جیسا نہیں رہا۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ نئی پابندیوں سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاس ایران پر عائد کرنے کے لیے مزید اقدامات موجود ہیں اور ’’ہماری پاس انتہائی سخت پابندیاں ہیں، اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کھلی ہے اور بڑی تعداد میں بحری جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگرچہ مستقبل میں جہازوں کی آمدورفت میں کچھ کمی آ سکتی ہے، تاہم فی الحال اس آبی گزرگاہ سے کافی تعداد میں بحری جہاز گزر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک انتہائی اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی طویل عرصے سے اہم حیثیت رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کو بھی مؤثر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ناکہ بندی کے باعث کوئی بحری جہاز ایران تک نہیں پہنچ سکا، تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں اعداد و شمار یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایک معاہدے کے تحت کارروائی میں مختصر وقفے بھی آئے، تاہم ان کا الزام تھا کہ ایران نے اپنی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔
ٹرمپ کے مطابق آنے والے فیصلوں کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ طے پاتا ہے یا امریکہ موجودہ حکمت عملی جاری رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ ہوا تو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں ’’چٹان کی طرح تیزی سے نیچے‘‘ آ سکتی ہیں، بصورت دیگر امریکہ موجودہ پالیسی کے مطابق کارروائی جاری رکھے گا۔
امریکی صدر نے تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے 350 ڈالر فی بیرل تک قیمت پہنچنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، لیکن اس وقت تیل کی قیمت تقریباً 84 سے 85 ڈالر فی بیرل ہے۔ ان کے مطابق امریکہ بڑی مقدار میں تیل پیدا کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے امریکی ریاستوں ٹیکساس، الاسکا اور لوزیانا میں توانائی کے وسائل اور نئے سپلائی ذرائع کو بھی موجودہ صورتحال کی ایک وجہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں پائپ لائنز بھی تعمیر کی جا رہی ہیں، جس سے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے متبادل راستے پیدا ہو رہے ہیں۔
اسی تناظر میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں آبنائے ہرمز مستقبل میں اتنی اہم نہیں رہے گی جتنی ماضی میں تھی۔
صدر ٹرمپ کے یہ بیانات وائٹ ہاؤس میں مالیاتی، کرپٹو کرنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں سے وابستہ رہنماؤں کے ساتھ ایک تقریب کے دوران سامنے آئے۔ ان سے یہ سوال بھی کیا گیا تھا کہ آیا امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف اس ہفتے اپنی اب تک کی سب سے اہم پابندیوں کا اعلان کر سکتی ہے۔
ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی پابندیوں اور آبنائے ہرمز سے متعلق ٹرمپ کے بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی توانائی منڈیوں میں خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے



