
کسانوں اور اساتذہ کو راحت، ڈی ایم کے دور کے احتجاجی مقدمات ختم کرنے کا وزیر اعلیٰ وجئے کا اعلان
ہماری حکومت ہمیشہ کسانوں اور اساتذہ کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
چنئی، 2 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجئے نے کسانوں اور اساتذہ کے حق میں ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مئی 2021 سے اپریل 2026 کے دوران اپنے معاشی حقوق، روزگار اور جائز مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کرنے والے کسانوں اور اساتذہ کے خلاف درج مقدمات واپس لیے جائیں گے۔ حکومت کے اس فیصلے سے ان افراد کو قانونی کارروائی سے بڑی راحت ملنے کی امید ہے جن کے خلاف احتجاج کے دوران مختلف مقدمات درج کیے گئے تھے۔
وزیر اعلیٰ وجئے نے اسمبلی میں اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے یہ قدم انسانی ہمدردی اور جمہوری اقدار کے احترام میں اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں اور اساتذہ کے ساتھ کھڑی ہے اور پُرامن طور پر اپنے مطالبات پیش کرنا جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مقدمات واپس لینے کے فیصلے سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
تمل ناڈو میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مختلف منصوبوں اور پالیسیوں کے خلاف کسانوں اور دیگر طبقات نے احتجاج کیا تھا۔ ترووناملائی ضلع میں ’سپ کوٹ‘ صنعتی پارک کے قیام کی مخالفت کرنے والے کسان بھی ایسے ہی مظاہروں میں شامل تھے۔ ان احتجاجات کے بعد متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ بعض مظاہرین پر سخت غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی گئی تھی۔
اسی طرح پرندور میں مجوزہ نئے ایئرپورٹ منصوبے کے خلاف مقامی کسانوں نے اپنی زرعی زمین، آبی وسائل اور روزگار کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا تھا۔ احتجاج میں شامل افراد کے خلاف بھی مقدمات درج کیے گئے تھے اور ان میں سے بعض معاملات اب تک زیر سماعت یا زیر التوا ہیں۔ حکومت کی جانب سے تازہ اعلان کے بعد ایسے مقدمات کے مستقبل پر بھی توجہ مرکوز ہوگئی ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) نے ٹی وی کے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نیشنل ایلیجیبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ، یعنی نیٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لیے جائیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان احتجاجات میں طلبا سمیت مختلف طبقات کے افراد شریک تھے، اس لیے ان کے خلاف درج مقدمات پر بھی حکومت کو ہمدردانہ غور کرنا چاہیے۔
پی ایم کے نے بھی وزیر اعلیٰ وجئے سے این ایل سی کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد پر درج مقدمات واپس لینے کی اپیل کی ہے۔ پارٹی کی جانب سے اس معاملے کو بھی حکومت کے سامنے اٹھایا گیا ہے۔وزیر نرمل کمار نے کہا ہے کہ حکومت اس مطالبے پر غور کرے گی۔
حکومت کے اعلان کو کسانوں اور اساتذہ سے متعلق احتجاجی مقدمات کے حوالے سے ایک اہم انتظامی فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، مقدمات کی واپسی کا حتمی دائرہ کار اور اس پر عمل درآمد متعلقہ قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل ہونے کے بعد واضح ہوگا۔



