فلمی دنیا

ممبئی احتجاج میں شرکت پر عامر خان کے بھانجے عمران خان کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج میں شرکت کے بعد ممبئی پولیس کا نوٹس، عمران خان کی امریکی شہریت اور امیگریشن حیثیت پر بھی سوالات اٹھ گئے

ممبئی، 15 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): بالی ووڈ اداکار عامر خان کے بھانجے اداکار عمران خان کو ممبئی پولیس کی جانب سے 28 اکتوبر 2026 تک ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔ یہ کارروائی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر ممبئی میں منعقدہ احتجاج میں شرکت کے معاملے سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ اس معاملے نے اداکار کی شہریت، ہندوستان میں ان کی سرگرمیوں اور غیر ملکی شہریوں پر عائد قانونی پابندیوں کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق عمران خان 10 اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں ہونے والے احتجاج میں شریک ہوئے تھے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس احتجاج کے دوران ممبئی پولیس نے عمران خان کو حراست میں لیا تھا۔ پولیس کی کارروائی کا تعلق ان کی احتجاج میں شرکت اور امیگریشن سے متعلق ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی سے بتایا جا رہا ہے۔

اس معاملے میں اہم پہلو عمران خان کی شہریت ہے۔ بی جے پی رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ کیرت سومیا نے مرکزی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام سے رجوع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان امریکی شہری ہیں اور ان کے پاس اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کارڈ ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کو یہ جانچ کرنا چاہیے کہ احتجاج میں شرکت کے معاملے میں ان کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

غیر ملکی شہریوں کے ہندوستان میں قیام اور سرگرمیوں سے متعلق قواعد کا اطلاق ان کی امیگریشن حیثیت اور متعلقہ اجازت ناموں کی شرائط کے مطابق ہوتا ہے۔ تاہم، کسی مخصوص شخص کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کیے جانے کا حتمی تعین متعلقہ دستاویزات اور مجاز حکام کے فیصلے کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کیرت سومیا نے 13 اکتوبر کو مرکزی وزارت داخلہ کے سکریٹری گووند موہن کو خط لکھ کر عمران خان کے خلاف لک آؤٹ سرکلر (LOC) جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے امیگریشن حکام سے یہ بھی کہا تھا کہ شکایت کی جانچ اور پولیس کے معاملے کی تفتیش مکمل ہونے تک اداکار کے بیرون ملک سفر کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔

سومیا نے اپنے خط میں دعویٰ کیا کہ 10 اکتوبر کو اگست کرانتی میدان میں منعقدہ اجتماع کے لیے ضروری اجازت حاصل نہیں کی گئی تھی۔ ان کے مطابق گام دیوی پولیس اسٹیشن میں اس واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 813/2026 درج کی گئی اور عمران خان کا نام بھی اس معاملے میں شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایف آئی آر کی نقل موصول نہیں ہوئی تھی۔

کیرت سومیا نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ عمران خان کی احتجاج میں شرکت کا جائزہ شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 7D اور امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ 2025 کی متعلقہ دفعات کی روشنی میں لیا جائے۔ اب اداکار کو 28 اکتوبر تک ملک چھوڑنے کا نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ اس معاملے میں نوٹس کی مکمل تفصیلات، اس کی قانونی بنیاد اور اداکار کے ممکنہ جواب کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

عمران خان نے بطور چائلڈ آرٹسٹ فلمی دنیا میں قدم رکھا تھا۔ وہ فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ اور ’جو جیتا وہی سکندر‘ میں نظر آئے، جبکہ 2008 میں فلم ’جانے تو یا جانے نا‘ سے بطور مرکزی اداکار اپنی شناخت بنائی۔ یہ رومانوی کامیڈی فلم کامیاب رہی اور عمران خان کو نوجوان ناظرین میں مقبولیت حاصل ہوئی۔

بعد کے برسوں میں انہوں نے ’آئی ہیٹ لو اسٹوریز‘، ’میرے برادر کی دلہن‘، ’ایک میں اور ایک تو‘ اور ’دہلی بیلی‘ جیسی فلموں میں کام کیا۔ ان فلموں میں رومانوی کامیڈی کے ساتھ مختلف انداز کے کردار بھی شامل تھے۔ تاہم، مسلسل چند فلموں کی ناکامی کے بعد وہ طویل عرصے تک بڑے پردے سے دور رہے۔

عمران خان نے 2015 میں فلم ’کٹی بٹی‘ میں کنگنا رناوت کے ساتھ کام کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اداکاری سے طویل وقفے پر چلے گئے۔ حالیہ برسوں میں فلم ’ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس‘ میں ان کی مختصر جھلک نے ان کی واپسی کے حوالے سے دلچسپی پیدا کی۔

فی الحال پولیس کے نوٹس سے متعلق معاملہ عمران خان کی امیگریشن حیثیت اور احتجاج میں شرکت کے گرد گھوم رہا ہے۔ اس معاملے میں حتمی قانونی صورت حال متعلقہ سرکاری دستاویزات اور حکام کے فیصلے سے واضح ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button