فلمی دنیا

ٹائیگر شراف پر حملے کی وجہ سلمان خان کی تعریف؟ لارنس بشنوئی گینگ سے تعلق رکھنے والے ملزم کا دعویٰ

ممبئی، 24 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے میں ایک گرفتار ملزم نے دعویٰ کیا ہے کہ اداکار کو نشانہ بنانے کی ممکنہ وجوہات میں سلمان خان کی تعریف بھی شامل تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، تفتیش کے دوران ملزم نے بتایا کہ ٹائیگر شراف نے 2022 میں ایک فلم کی تشہیری تقریب میں سلمان خان کو فلم انڈسٹری کا اصل ’ٹائیگر‘ قرار دیا تھا۔ پولیس اس دعوے کی جانچ کر رہی ہے، تاہم حملے کے پیچھے یہی وجہ ہونے کی ابھی حتمی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، 18 اکتوبر کو جوہو کے ایک میدان میں فٹ بال کھیلنے کے بعد واپس لوٹ رہے ٹائیگر شراف کی بی ایم ڈبلیو گاڑی پر دو مسلح افراد نے سات راؤنڈ فائر کیے تھے۔ حملہ آور اپنے ایک ساتھی کے ساتھ موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔ اس واقعے میں اداکار کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ بعد ازاں لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ ایک شخص نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

واقعے کے اگلے دن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمین کو راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن پر پونے-جے پور سپرفاسٹ ایکسپریس سے گرفتار کرلیا۔ تفتیشی حکام اب حملے کی منصوبہ بندی، ملزمین کے رابطوں اور مبینہ سرپرستوں کے کردار کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، گرفتار ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران ٹائیگر شراف کے 2022 کے بیان کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق، اداکار نے ایک تشہیری تقریب میں سلمان خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلم انڈسٹری میں اصل ’ٹائیگر‘ سلمان خان ہیں۔ تفتیش کار اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اس بیان نے مبینہ حملہ آوروں کو اداکار کے خلاف کارروائی پر آمادہ کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہو۔ تاہم، اس دعوے کو فی الحال ملزم کے بیان کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔

لارنس بشنوئی گینگ اور سلمان خان کے درمیان تنازع کا تعلق ماضی میں سامنے آنے والے کالے ہرن کے شکار کے مقدمے سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ معاملہ 1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے مبینہ شکار سے متعلق ہے۔ بشنوئی برادری کالے ہرن کو مذہبی اور ثقافتی اہمیت دیتی ہے۔ اسی تنازع کے پس منظر میں سلمان خان کو ماضی میں دھمکیاں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

تفتیش کے دوران پولیس کو شبہ ہوا کہ ملزمین سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے ذریعے پولیس کی کارروائیوں پر نظر رکھ رہے تھے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریحان نامی ملزم کو مسلسل موبائل فون استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ تفتیشی ایجنسیوں کو شبہ ہے کہ ملزمین کو پیغامات کے ذریعے یہ اطلاع مل رہی تھی کہ فرار کے لیے استعمال کی گئی موٹر سائیکل اندھیری میں برآمد ہوچکی ہے اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔ اب حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا تفتیش سے متعلق کوئی خفیہ معلومات ملزمین تک پہنچائی جارہی تھیں اور اگر ایسا تھا تو اس کے پیچھے کون تھا۔

ذرائع کے مطابق، فائرنگ کے بعد ملزمین نے پولیس سے بچنے کے لیے اپنے موبائل فون اور انٹرنیٹ کنکشن بند کردیے تھے۔ مبینہ سازش کے دوران شوٹرز اور ان کے ہینڈلرز انٹرنیٹ پر مبنی وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول (VoIP) کالز کے ذریعے رابطے میں تھے۔ تاہم، فرار کے دوران کی گئی ایک عام فون کال پولیس کے لیے اہم سراغ ثابت ہوئی۔

تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزمین نے ممبئی کے بوریولی سے سورت جانے کے لیے ایک نجی ٹیکسی بک کی تھی۔ فائرنگ کے بعد وہ اندھیری سے لوکل ٹرین کے ذریعے بوریولی پہنچے اور وہاں سے ٹیکسی میں سورت روانہ ہوگئے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو کی گئی ایک فون کال کی بنیاد پر پولیس نے ملزمین کے سفر کے سلسلے کا پتا لگایا۔ اس کے بعد ممبئی پولیس کے اینٹی ایکسٹورشن سیل نے سورت پہنچ کر ڈرائیور سے پوچھ گچھ کی۔ اسی معلومات کی مدد سے پولیس کو ملزمین تک پہنچنے اور کوٹا ریلوے اسٹیشن پر گرفتاری کی کارروائی انجام دینے میں مدد ملی۔

ممبئی پولیس کے ذرائع کے مطابق، فائرنگ کے واقعے نے ٹائیگر شراف کو شدید ذہنی صدمہ پہنچایا ہے۔ اداکار نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے اور انہیں معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے، انہوں نے فائرنگ کیوں کی یا اس کارروائی کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔

کرائم برانچ کے ایک افسر کے مطابق، واقعے کے بعد اداکار کی ذہنی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ابھی تک ان کا باضابطہ بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا بیان بعد میں درج کیا جائے گا۔ فی الحال تفتیش کا مرکز حملے کی اصل وجہ، ملزمین کے ممکنہ رابطوں اور انہیں پولیس کی کارروائیوں سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے افراد کی شناخت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button