قومی خبریں

یاسین ملک سمیت 7 افراد کے خلاف 8.94 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کیس میں مقدمہ چلانے کا حکم

نئی دہلی، 24 اکتوبر 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) دہلی کی خصوصی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) عدالت نے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک سمیت سات ملزمان کے خلاف 8.94 کروڑ روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملے میں مقدمے کی سماعت شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا الزام ہے کہ جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کی مبینہ حمایت کے لیے پاکستان سے حوالہ نیٹ ورک اور دیگر ذرائع کے ذریعے رقم منتقل کی گئی تھی۔

تحقیقاتی ایجنسی کے مطابق، اس معاملے میں مبینہ طور پر غیر قانونی مالی لین دین سے حاصل ہونے والی 8.94 کروڑ روپے کی رقم کی منتقلی اور استعمال کی جانچ کی گئی ہے۔ الزام ہے کہ پاکستان سے آنے والی رقوم مختلف ذرائع کے ذریعے ملزمان تک پہنچیں اور انہیں جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں اور دیگر مبینہ غیر قانونی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

ای ڈی نے اس معاملے کی تحقیقات این آئی اے کی جانب سے 2017 میں درج کی گئی ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کی تھیں۔ این آئی اے نے یہ مقدمہ تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت درج کیا تھا۔ بعد ازاں ای ڈی نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں، رقوم کی منتقلی کے طریقوں اور جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کے ذرائع کی جانچ کی۔

عدالت نے گزشتہ ماہ اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف الزامات طے کیے تھے، جس کے بعد مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا راستہ ہموار ہوا۔ تازہ عدالتی حکم کے بعد استغاثہ کو اب اپنے الزامات کی تائید میں دستاویزی شواہد، مالیاتی ریکارڈ اور تفتیش کے دوران جمع کیے گئے دیگر مواد کو عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔

یہ مقدمہ جموں و کشمیر میں مبینہ علیحدگی پسند سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے بیرون ملک سے رقوم منتقل کیے جانے کے الزامات سے متعلق وسیع تر تحقیقات کا حصہ ہے۔ سماعت کے دوران عدالت مبینہ فنڈنگ کے ذرائع، رقوم کی منتقلی کے طریقہ کار اور ہر ملزم کے مبینہ کردار کا جائزہ لے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button