سرورققومی خبریں

اتر پردیش میں گائے اسمگلنگ کے ملزمان پر پولیس فائرنگ، زخمیوں میں 93 فیصد مسلمان

مسلم نوجوانوں کو ٹانگوں میں گولی مارنے کے واقعات پر سوالات،انسانی حقوق کے کارکنوں کا پولیس کارروائیوں کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

لکھنؤ، 24 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اتر پردیش میں گائے کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو پولیس مقابلوں کے دوران ٹانگوں میں گولی مارنے کے متعدد واقعات نے ریاست میں پولیس کارروائیوں، انسانی حقوق اور قانونی طریقۂ کار سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی ایک تحقیق کے مطابق، ایسے واقعات میں مسلم نوجوانوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور عدالتی حلقوں نے پولیس کی طاقت کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق، اتر پردیش میں پولیس کی جانب سے شائع کردہ ویڈیوز میں اکثر ایک جیسا منظر دکھائی دیتا ہے، جہاں گولی لگنے سے زخمی شخص کو پولیس اہلکار حراست میں لے کر جاتے ہیں۔ پولیس ان کارروائیوں کو جرائم کے خلاف مہم اور اپنے دفاع میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض واقعات میں قانون کے طے شدہ طریقۂ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے ملزمان کو سزا دینے جیسا طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے 2020 سے اتر پردیش میں گائے کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد کو پولیس کی فائرنگ میں زخمی کیے جانے کے تقریباً 650 واقعات کے اعداد و شمار جمع کیے۔ یہ معلومات خصوصی طور پر خبر رساں ادارے اے پی کے ساتھ شیئر کی گئیں، جس نے ان میں سے 200 سے زائد واقعات کی آزادانہ جانچ کی۔ رپورٹ کے مطابق، جن متاثرین کی شناخت سے متعلق معلومات دستیاب تھیں، ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

اعداد و شمار میں شامل 627 ایسے معاملات میں، جن میں متاثرین کے نام یا شناخت کی دوسری تفصیلات دستیاب تھیں، تقریباً 93 فیصد افراد مسلمان تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تحقیق صرف ان واقعات پر مبنی ہے جنہیں پولیس نے خود تشہیر کے لیے عام کیا، اس لیے حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ٹانگوں پر گولی لگنے کے واقعات زیرِ بحث

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متعدد پولیس کارروائیوں میں مشتبہ افراد کی ٹانگوں، خصوصاً گھٹنے کے نیچے، گولیاں لگنے کا ایک مسلسل نمونہ سامنے آیا۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بعض ماہرین نے اس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملزمان پولیس پر حملہ کر رہے ہوں یا فرار ہو رہے ہوں تو بار بار ایک ہی حصے پر گولی لگنے کی نوعیت کی جانچ ضروری ہے۔

اتر پردیش میں ایسے واقعات کو مقامی سطح پر ’’آپریشن لنگڑا‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ مبینہ طور پر گائے اسمگلنگ کے علاوہ چوری اور عصمت دری جیسے دیگر جرائم کے ملزمان کے خلاف بھی استعمال ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق، بعض کارروائیاں پولیس مقابلے کے بجائے ملزمان کو زخمی کرکے خوف پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں، تاہم ہر واقعے کے حقائق اور حالات کی الگ جانچ ضروری ہے۔

انسانی حقوق کی وکیل منگلا ورما نے اے پی سے گفتگو میں کہا کہ پولیس کی جانب سے کسی شخص کو زخمی یا ہلاک کرنے کے بعد اسے انصاف قرار دینا خطرناک رجحان ہے۔ ان کے مطابق، ایسے معاملات میں تحقیقات اور قانونی کارروائی کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہیے۔

اتر پردیش پولیس کے سینئر افسر امیتابھ یش نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کو صرف اپنے دفاع میں طاقت استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو ملزمان کی ٹانگوں پر گولی چلانے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس نوعیت کے واقعات سے متعلق مناسب شکایت موصول ہو تو مسلسل سامنے آنے والے زخمی ہونے کے نمونے کی تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔

اتر پردیش میں مارچ 2017 سے یوگی آدتیہ ناتھ کی وزارت اعلیٰ کے دور میں جرائم کے خلاف سخت کارروائیوں کو حکومت کی اہم پالیسی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما ہیں اور ان کی حکومت جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد کا دعویٰ کرتی ہے۔

اے پی کو حاصل ریاستی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق، یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار سنبھالنے سے 13 اکتوبر 2026 تک پولیس مقابلوں میں 316 مشتبہ افراد ہلاک ہوئے، جن میں 110 مسلمان تھے۔ اسی مدت کے دوران 12,890 مشتبہ افراد زخمی ہوئے۔ پولیس کارروائیوں میں 18 اہلکار ہلاک اور 1,953 زخمی ہوئے۔ تاہم، زخمی ہونے والے تمام مشتبہ افراد کے مذہب سے متعلق تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔

ریاستی پولیس نے مئی میں جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی نے جرائم پیشہ عناصر میں خوف پیدا کیا اور عام لوگوں میں تحفظ کا احساس مضبوط کیا ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے نام پر کسی بھی شخص کے خلاف غیر ضروری طاقت کا استعمال قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اتر پردیش میں پولیس مقابلوں کے طریقۂ کار پر عدالتی سطح پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے رواں سال جنوری میں ایک معاملے کی سماعت کے دوران پولیس مقابلوں، خصوصاً ملزمان کی ٹانگوں پر فائرنگ، کو معمول بنتا دیکھ کر تشویش ظاہر کی تھی۔

عدالت نے واضح کیا کہ پولیس نظامِ انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی اور اسے قانون کے تحت لازمی رپورٹنگ اور تحقیقات کے طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔ ایک عدالتی حکم میں اس نوعیت کے طرزِ عمل کو قانون کی حکمرانی کے منافی قرار دیا گیا تھا۔

جون میں ایک دوسرے معاملے کی سماعت کے دوران بھی ہائی کورٹ کے ایک جج نے ریاست میں ادارہ جاتی جواب دہی کے فقدان پر آئینی تشویش ظاہر کی۔ اس کے باوجود، پولیس مقابلوں کے خلاف آزادانہ تحقیقات کے مطالبات سے متعلق بعض مقدمات طویل عرصے سے زیرِ التوا ہیں۔

امیتابھ یش نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ پولیس اہلکاروں کو ملزمان پر فائرنگ کرنے کے بدلے ترقی یا دیگر مراعات دی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، پولیس مقابلوں کی بنیاد پر کسی اہلکار کی ترقی کی کوئی پالیسی موجود نہیں ہے۔
متاثرہ خاندانوں کو معاشی مشکلات کا سامنا
اے پی نے اتر پردیش میں ایسے چھ مسلم مردوں کے خاندانوں سے بات کی جنہیں پولیس نے ٹانگوں میں گولی ماری تھی۔ خاندانوں نے خوف کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی۔ رپورٹ کے وقت ان میں سے بعض افراد جیل میں تھے، جبکہ کچھ روپوشی کی زندگی گزار رہے تھے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا بھینسوں کی خرید و فروخت کے ذریعے خاندان کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ ان کے مطابق، زخمی ہونے کے بعد اس کی ٹانگ میں شدید سوجن پیدا ہو گئی اور وہ پہلے کی طرح کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔ خاندان اب دوسروں کی مالی مدد پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

ایک دوسری خاتون نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے دونوں گھٹنوں میں گولیاں لگیں، جس کے بعد گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انہیں چھوٹے قرض لینے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال میں اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر پورا خاندان شدید صدمے سے دوچار ہو گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاندانوں کو صرف جسمانی نقصان ہی نہیں بلکہ روزگار کے خاتمے، علاج کے اخراجات اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی پولیس کارروائیاں اتر پردیش تک محدود نہیں رہیں اور ہریانہ، بہار، اتراکھنڈ سمیت بعض دیگر علاقوں میں بھی ایسے طریقوں کے استعمال پر تشویش سامنے آئی ہے۔ تاہم، مختلف ریاستوں میں ان واقعات کی نوعیت اور تعداد کا تعین کرنے کے لیے الگ اور قابلِ تصدیق اعداد و شمار ضروری ہیں۔

سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر راقیب نائیک کے مطابق، گائے اسمگلنگ سے متعلق پولیس کارروائیوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کا زخمی ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانب داری کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات اور جواب دہی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

پولیس افسر امیتابھ یش نے اس مؤقف کے جواب میں کہا کہ مویشیوں کی تجارت سے وابستہ مسلمانوں کی بڑی تعداد ان واقعات میں ان کی زیادہ نمائندگی کی وجہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس فورس میں مختلف مذاہب اور ذاتوں سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہیں اور کسی ایک گروہ کو نشانہ بنانے کی پالیسی نہیں ہے۔

اتر پردیش میں پولیس کارروائیوں پر جاری بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے طاقت کا استعمال کس حد تک قانونی اور ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور عدالتی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ ہر پولیس مقابلے کی غیر جانب دارانہ جانچ ہو، غیر ضروری طاقت استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ملزمان کو سزا دینے کا اختیار صرف قانونی نظام کے تحت استعمال کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button