
ڈاکٹر سید اکرم کوتوال کا تعلیمی و طبی سفر: گاندھی میڈیکل کالج سے کینسر کے جدید علاج تک
لٹل اسٹارز ہائی اسکول سے میڈیکل ڈائریکٹر تک-اردو دنیا نیوز | خصوصی انٹرویو
طب کے شعبے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت، علم حاصل کرنے کا جذبہ اور مریضوں کی خدمت کا عزم بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سید اکرم کوتوال کا طبی سفر بھی تعلیم، تحقیق اور کینسر کے علاج کے شعبے میں پیشہ ورانہ تجربے کی ایک مثال ہے۔ وہ حیدرآباد کے رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل، ملک پیٹ میں میڈیکل ڈائریکٹر اور سینئر کنسلٹنٹ ریڈی ایشن آنکولوجسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اردو دنیا نیوز کے خصوصی پروگرام “Doctor’s Journey – Medical Awareness” میں ڈاکٹر سید اکرم کوتوال نے اپنے تعلیمی سفر، میڈیکل کی تعلیم، کینسر کے علاج کے شعبے میں آگے بڑھنے، تحقیق اور ریڈی ایشن تھراپی کی جدید تکنیکوں کے بارے میں گفتگو کی۔
میری ابتدائی تعلیم اور ڈاکٹر بننے کا خواب
میری ابتدائی تعلیم لٹل اسٹارز ہائی اسکول سے ہوئی۔ اسکول کے زمانے میں ہمارے پرنسپل الطاف حسین صاحب اور اساتذہ نے ہماری تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ محمود سر ریاضی پڑھاتے تھے، جبکہ طاہرہ ٹیچر سائنس کے مضمون میں ہماری دلچسپی بڑھاتی تھیں۔ اسکول کے ماحول اور اساتذہ کی رہنمائی نے پڑھائی کے شوق کو مضبوط کیا۔ دسویں جماعت میں بھی میرے نمبر اچھے آئے اور میں عموماً اپنی کلاس میں اول رہا کرتا تھا۔
بچپن سے ہی میرے ذہن میں ڈاکٹر بننے کا خیال موجود تھا۔ جب میں اپنے والدین کے ساتھ کسی مریض یا خاندان کے فرد کو علاج کے لیے لے جاتا تو ڈاکٹر کے علاج کے بعد مریض کو راحت ملتے اور اس کے چہرے پر اطمینان دیکھتا تھا۔ اس سے میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ میں بھی ایسا کام کروں جس سے لوگوں کی تکلیف کم ہو۔
ہمارے خاندان میں میرے پردادا حضرت کوتوال محمد سید صاحب حکیم تھے۔ میں نے انہیں نہیں دیکھا، لیکن والد صاحب اور دوسرے بزرگوں سے ان کے بارے میں سنا کہ دور دراز کے دیہات سے لوگ ان کے پاس علاج کے لیے آتے تھے۔ یہ باتیں بھی میرے ذہن پر اثر انداز ہوئیں۔
میرے والد کی زندگی اور ان کی رہنمائی
میرے والد سید محمود کوتوال تقریباً 1965 سے 1970 کے درمیان حیدرآباد آئے تھے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں محنت کی اور ایل وِن (Alwyn) میں مشینوں سے متعلق کام کیا۔ اپنی محنت اور تجربے کے ذریعے وہ سپروائزر کے عہدے تک پہنچے۔
والد صاحب مجھے سمجھاتے تھے کہ میڈیکل کا شعبہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بلکہ لوگوں کی خدمت کا بھی ایک اہم راستہ ہے۔ ڈاکٹر ہو، نرس ہو یا لیبارٹری میں کام کرنے والا کوئی فرد، اگر وہ اپنی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کرے تو اس کے ذریعے مریضوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ والد صاحب کی یہ باتیں میرے ذہن میں رہیں اور انہوں نے میڈیکل کے شعبے کو منتخب کرنے کے میرے فیصلے پر اثر ڈالا۔
ریاضی میں میری دلچسپی تھی، اس لیے انجینئر بننے کا خیال بھی آتا تھا، لیکن والدین کی رہنمائی سے میں نے میڈیکل کے شعبے کو منتخب کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرے والدین خود ڈاکٹر نہیں تھے، مگر انہوں نے میری تعلیم اور مستقبل کے لیے رہنمائی کی۔
ایم بی بی ایس میں داخلے کے لیے محنت
انٹرمیڈیٹ کے لیے میں نے نیو گورنمنٹ جونیئر کالج میں داخلہ لیا اور بائیولوجی، فزکس اور کیمسٹری کے مضامین اختیار کیے۔ اس وقت میڈیکل کالج میں داخلے کے لیے ایم سیٹ کا امتحان ہوتا تھا۔ ابتدائی کوشش میں میری توقع کے مطابق رینک نہیں آیا، لیکن ڈاکٹر بننے کا ارادہ برقرار رہا۔ اس لیے میں نے دوبارہ تیاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
طویل مدت کی کوچنگ کے دوران روزانہ سفر کرنا پڑتا تھا۔ صبح جلدی گھر سے نکلنا، کالونی سے مرکزی سڑک تک پیدل جانا، پھر مختلف بسیں بدل کر کوچنگ سینٹر پہنچنا اور شام کو واپس آنا معمول تھا۔ اس سب کے باوجود میری توجہ پڑھائی پر رہی۔
میں دوسروں کے نمبروں سے اپنا موازنہ کرنے کے بجائے یہ دیکھتا تھا کہ میرے اپنے نمبر کتنے آئے ہیں اور اگلے امتحان میں انہیں کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ٹیسٹ میں سو نمبر آتے تو کوشش ہوتی کہ اگلی مرتبہ ایک سو بیس یا ایک سو تیس نمبر حاصل کروں۔
اساتذہ سے سوال پوچھنے میں بھی کبھی جھجک محسوس نہیں کی۔ جس بات کی سمجھ نہیں آتی تھی، اسے پوچھ کر سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ کوچنگ کے آغاز میں میں کلاس کے نچلے درجے کے طلبہ میں تھا، لیکن مسلسل محنت کے ساتھ بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے آخر تک نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ اللہ کے فضل سے مجھے گاندھی میڈیکل کالج میں سرکاری نشست حاصل ہوئی۔
گاندھی میڈیکل کالج سے NIMS تک
میں نے 2004 میں گاندھی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم شروع کی۔ یہ میرے لیے ایک اچھا تجربہ تھا۔ وہاں نئے کیمپس میں تعلیم حاصل کرنے اور مختلف ساتھیوں کے ساتھ سیکھنے کا موقع ملا۔ خاندان میں ڈاکٹر زیادہ نہیں تھے، اس لیے میں دوسرے ڈاکٹروں سے بھی رہنمائی حاصل کرتا تھا اور ان سے پوچھتا تھا کہ میڈیکل کی تعلیم کے دوران کس طرح تیاری کرنی چاہیے۔
ایم بی بی ایس مکمل ہونے کے بعد میرے سامنے یہ فیصلہ تھا کہ جنرل پریکٹس کی جائے یا کسی خاص شعبے میں آگے تعلیم حاصل کی جائے۔ میرے بڑے بھائی فزکس کے شعبے سے وابستہ رہے تھے اور ان کی رہنمائی سے فزکس میں میری دلچسپی بڑھی۔ ابتدا میں میں ریڈیولوجی کے شعبے میں آگے پڑھنا چاہتا تھا۔
اس زمانے میں پوسٹ گریجویشن کے لیے مختلف اداروں کے الگ الگ داخلہ امتحانات ہوتے تھے۔ میں مختلف کورسز اور ان کے داخلہ امتحانات کے بارے میں معلومات حاصل کررہا تھا۔ اسی دوران نظامس انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (Nizam’s Institute of Medical Sciences (NIMS))، حیدرآباد کے کورسز کی معلومات دیکھتے ہوئے میری نظر ایم ڈی ریڈیو تھراپی پر پڑی۔
ابتدا میں مجھے ریڈیو تھراپی اور ریڈیولوجی کے فرق کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ میں نے اس شعبے کے بارے میں پڑھنا اور تحقیق کرنا شروع کیا۔ جیسے جیسے اس کے بارے میں سمجھ بڑھتی گئی، میری دلچسپی بھی بڑھتی گئی۔ بالآخر میں نے NIMS میں ریڈیو تھراپی کی تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہاں اساتذہ کی رہنمائی سے مجھے صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ تحقیق کا موقع بھی ملا۔ میں نے تحقیقی مقالوں پر کام کیا اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی۔2014 میں سان فرانسسکو میں منعقد ہونے والی ASTRO کانفرنس میں مجھے اپنی تحقیقی کاوش پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس موقع پر بہترین تحقیقی مقالے کا ایوارڈ حاصل کرنا میرے لیے ایک اہم کامیابی تھی۔ اس سفر میں میرے اساتذہ کی رہنمائی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
کینسر کے علاج میں پیشہ ورانہ تجربہ
NIMS میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے MNJ کینسر ہاسپٹل میں سینئر ریزیڈنٹ کے طور پر کام کیا۔ وہاں مجھے مختلف نوعیت کے مریضوں، بالخصوص ایسے مریضوں کو دیکھنے کا موقع ملا جنہیں بیماری کے آخری مراحل میں تکلیف کم کرنے کے لیے علاج اور نگہداشت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی دوران میں نے پیلی ایٹو کیئر کی تربیت بھی حاصل کی۔
اس تجربے سے مجھے اندازہ ہوا کہ کینسر کے علاج میں صرف بیماری کو ختم کرنے کی کوشش ہی اہم نہیں، بلکہ مریض کی تکلیف کم کرنا اور اس کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
آج میرے پاس کینسر کے علاج کے شعبے میں تیرہ برس سے زیادہ کا تجربہ ہے۔ اس دوران علاج کی ٹیکنالوجی میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب علاج کی منصوبہ بندی زیادہ تفصیل سے کی جاتی ہے اور جدید مشینوں کے ذریعے ٹیومر کو ہدف بنا کر ریڈی ایشن دینے کی صلاحیت میں بہتری آئی ہے۔
رینوا گروپ میں ہم مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ مریض کے علاج کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت متعلقہ ماہرین آپس میں مشورہ کرتے ہیں تاکہ بیماری کی نوعیت اور مریض کی حالت کے مطابق مناسب علاج منتخب کیا جا سکے۔
ریڈی ایشن تھراپی اور جدید تکنیکیں
کینسر کے علاج میں بنیادی طور پر سرجری، ریڈی ایشن تھراپی اور کیموتھراپی اہم طریقے ہیں۔ کس مریض کو کون سا علاج دیا جائے، اس کا فیصلہ کینسر کی قسم، اس کے مقام، مرحلے اور مریض کی مجموعی حالت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ بعض مریضوں میں ایک طریقہ کافی ہوتا ہے، جبکہ بعض میں ایک سے زیادہ طریقوں کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
ریڈی ایشن تھراپی میں جدید تکنیکوں کی مدد سے ٹیومر پر زیادہ درست انداز میں شعاعیں پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ اردگرد کے صحت مند اعضا کو غیر ضروری شعاعوں سے حتی الامکان محفوظ رکھا جاسکے۔
IMRT اور IGRT جیسی تکنیکیں علاج کی منصوبہ بندی اور شعاعیں درست مقام تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ RapidArc جیسی جدید تکنیکوں سے علاج کا دورانیہ کم کیا جا سکتا ہے۔ پہلے بعض علاج میں زیادہ وقت لگتا تھا، لیکن جدید ٹیکنالوجی نے کئی طریقوں کو تیز اور زیادہ مؤثر بنایا ہے۔
ریڈی ایشن کے علاج میں مریض کی پوزیشن بھی اہم ہوتی ہے۔ سر یا گردن کے بعض ٹیومرز میں مریض کو ایک مخصوص پوزیشن میں رکھنے کے لیے ماسک تیار کیا جاتا ہے، تاکہ ہر سیشن کے دوران علاج درست مقام پر دیا جاسکے۔
SRS، SBRT اور بریکی تھراپی کیا ہیں؟
اسٹیریوٹیکٹک ریڈیو سرجری (SRS) ایک ایسا طریقۂ علاج ہے جس میں مخصوص حالات میں ٹیومر کو انتہائی درستگی کے ساتھ ریڈی ایشن دی جاتی ہے۔ اس میں روایتی سرجری کی طرح جسم پر چیرا لگانا ضروری نہیں ہوتا۔ دماغ کے بعض ٹیومرز میں یہ طریقہ استعمال کیا جاسکتا ہے، خاص طور پر جب روایتی سرجری مشکل یا نامناسب ہو۔ تاہم یہ ہر مریض یا ہر ٹیومر کے لیے موزوں نہیں ہوتا۔
اسی طرح جسم کے دوسرے حصوں میں بعض منتخب ٹیومرز کے لیے اسٹیریوٹیکٹک باڈی ریڈیو تھراپی (SBRT) استعمال کی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق مخصوص حالات میں پھیپھڑوں کے ابتدائی مرحلے کے کینسر، جگر کے بعض محدود ٹیومرز اور جسم کے دوسرے منتخب مقامات پر اس طریقۂ علاج پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے تفصیلی اسکین، علاج کی درست منصوبہ بندی اور کوالٹی چیک ضروری ہیں۔
ریڈی ایشن تھراپی کی ایک دوسری قسم بریکی تھراپی ہے۔ اس میں ریڈی ایشن کے منبع کو ٹیومر کے قریب رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق سروائیکل کینسر، یعنی رحم کے منہ کے کینسر، میں یہ علاج اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بعض مریضوں کو پہلے بیرونی ریڈی ایشن کے کئی سیشن دیے جاتے ہیں اور اس کے بعد بریکی تھراپی کی جاتی ہے۔
جدید HDR بریکی تھراپی میں علاج کا دورانیہ پہلے کے مقابلے میں کافی کم ہوا ہے۔ مریض کی بیماری اور ضرورت کے مطابق ریڈی ایشن کا منبع متعلقہ مقام کے قریب رکھا جاتا ہے۔ بعض حالات میں اس کے لیے مخصوص طبی طریقۂ کار اور بے ہوشی یا درد کم کرنے کے انتظامات کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
دل اور پھیپھڑوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش
ریڈی ایشن تھراپی کی منصوبہ بندی میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ٹیومر کے ساتھ جسم کے کون سے صحت مند اعضا قریب واقع ہیں۔ مثال کے طور پر بائیں جانب کے بریسٹ کینسر میں دل اور پھیپھڑوں کو غیر ضروری شعاعوں سے بچانے کی خصوصی اہمیت ہوتی ہے۔
اس مقصد کے لیے سانس کی حرکت اور ٹیومر کی پوزیشن کو مدنظر رکھا جاسکتا ہے۔ بعض مریضوں کو گہرا سانس لے کر کچھ وقت روکنے کی ہدایت دی جاتی ہے، تاکہ علاج کے دوران دل اور ٹیومر کے درمیان فاصلہ بہتر ہو اور دل کو ملنے والی شعاعوں کی مقدار کم کی جاسکے۔ مریض کی حالت اور دستیاب سہولتوں کے مطابق دوسری تکنیکیں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔
علاج کے فیصلے بین الاقوامی رہنما اصولوں، بیماری کے مرحلے اور متعلقہ ماہرین کی مشاورت کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ بعض ابتدائی کینسر میں ریڈی ایشن بنیادی علاج ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ مریضوں میں سرجری کے بعد اضافی ریڈی ایشن کی ضرورت پڑتی ہے۔ بعض اقسام کے کینسر میں ریڈی ایشن کے ساتھ کیموتھراپی بھی دی جاتی ہے۔
اگر کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل چکا ہو اور مریض کو شدید درد یا دوسری تکالیف ہوں تو بعض حالات میں درد اور تکلیف کم کرنے کے لیے پیلی ایٹو ریڈی ایشن دی جاسکتی ہے۔ اس کا مقصد مریض کو راحت پہنچانا اور روزمرہ زندگی کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔
کینسر متعدی بیماری نہیں، مریض سے دور رہنے کی ضرورت نہیں
کینسر کا نام سنتے ہی بہت سے لوگ خوف اور تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس بیماری سے متعلق بعض غلط فہمیوں کے باعث مریضوں کے ساتھ میل جول میں بھی احتیاط کے بجائے غیر ضروری فاصلہ اختیار کیا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ کینسر کے مریض کے قریب رہنے یا اس سے ملنے جلنے سے دوسرے لوگوں کو بھی کینسر ہوسکتا ہے۔ یہ درست نہیں ہے۔ کینسر عام چھوت کی بیماری نہیں ہے اور مریض کے ساتھ رہنے، اس سے بات کرنے یا اس کی دیکھ بھال کرنے سے دوسرے شخص کو کینسر نہیں پھیلتا۔
کینسر کی کئی اقسام جسم کے خلیوں میں جینیاتی تبدیلیوں اور مختلف خطرے کے عوامل سے وابستہ ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر تمباکو اور سگریٹ کا طویل استعمال کینسر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لوگ کینسر کے بارے میں مستند معلومات حاصل کریں اور غلط فہمیوں کی وجہ سے مریضوں سے دوری اختیار نہ کریں۔
کینسر کے مریض کو خاندان اور دوستوں کی مدد، مناسب طبی نگہداشت اور جذباتی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ بیماری کے بارے میں خوف یا غلط معلومات کی وجہ سے علاج میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ علامات یا کسی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا اور مناسب جانچ کروانا اہم ہے۔
کینسر کا علاج ہر مریض کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ درست تشخیص، بیماری کے مرحلے اور ماہرین کے مشورے کے مطابق علاج کا انتخاب کیا جانا چاہیے۔ جدید ریڈی ایشن تکنیکوں نے کئی مریضوں کے لیے علاج کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن کون سا طریقہ موزوں ہے، اس کا فیصلہ مریض کی انفرادی حالت کو دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔
Doctor’s Journey – Medical Awareness: اردو دنیا نیوز کی خصوصی پیشکش
اردو دنیا نیوز کے پروگرام Doctor’s Journey – Medical Awareness کا مقصد ڈاکٹروں کے تعلیمی و پیشہ ورانہ سفر کو قارئین اور ناظرین تک پہنچانے کے ساتھ صحت اور بیماریوں سے متعلق مفید معلومات فراہم کرنا ہے۔
ڈاکٹر سید اکرم کوتوال کے ساتھ اس خصوصی گفتگو میں ان کے اسکولی دور، میڈیکل کی تعلیم، ریڈی ایشن آنکولوجی میں تخصص، تحقیق، طبی تجربات اور کینسر کے جدید علاج سے متعلق موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
یہ انٹرویو میڈیکل کے طلبہ، نوجوان ڈاکٹروں، والدین اور صحت سے متعلق معلومات میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے۔
مکمل انٹرویو یہاں دیکھیں:
<
نوٹ: کینسر کی تشخیص اور علاج کے لیے مستند آنکولوجسٹ سے مشورہ کریں۔ یہ مضمون عمومی معلومات کے لیے ہے اور انفرادی طبی مشورے کا متبادل نہیں ہے۔



