
ممبئی میں جیش محمد سے مبینہ روابط پر 33 سالہ شخص گرفتار، مسعود اظہر کی تقاریر کے آڈیو کلپس ملنے کا دعویٰ
گجرات میں بھی جیش محمد سے مبینہ روابط کے معاملے میں گرفتاریاں
ممبئی، 24 اکتوبر 2026 (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) مہاراشٹر کے انسدادِ دہشت گردی دستے (اے ٹی ایس) نے ممبئی کے ماہم علاقے سے 33 سالہ شخص کو ممنوعہ تنظیم جیش محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی تقاریر کے آڈیو کلپس، قابلِ اعتراض اسکرین شاٹس اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مواد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ایجنسی اب ملزم کے ڈیجیٹل رابطوں اور ممکنہ بیرونی روابط کی جانچ کر رہی ہے۔
گرفتار شخص کی شناخت محمد حسن ابو سرمد اختر کے طور پر کی گئی ہے۔ اسے مہاراشٹر اے ٹی ایس کی کالہ چوکی یونٹ نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر ماہم میٹرو اسٹیشن کے قریب لکشمی بلڈنگ کے علاقے سے گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مبینہ طور پر ایسی پوسٹس اور پیغامات موجود تھے جنہیں مذہبی منافرت پھیلانے اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔
اے ٹی ایس کے مطابق ملزم انسٹاگرام اور ایکس سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھا۔ تفتیش کاروں نے اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 8 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک پوسٹ کا بھی جائزہ لیا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ممبئی دورے کے دوران سکیورٹی میں مبینہ کوتاہی سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس پوسٹ پر کیے گئے تبصرے میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے جیسا ہی واقعہ مودی کے ساتھ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی پوسٹس بھی ملی ہیں جن میں مبینہ طور پر جہاد کی حمایت اور بعض افراد کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ اے ٹی ایس ان مواد کی نوعیت، اشاعت کے مقصد اور ملزم کے ممکنہ رابطوں کی جانچ کر رہی ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور عدالتی تعین ہونا باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم ریپیڈو رائیڈر کے طور پر کام کرتا تھا اور عطر فروخت کرنے کا کاروبار بھی کرتا تھا۔ اے ٹی ایس نے اس کا موبائل فون ضبط کر لیا ہے، جس کا تکنیکی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق فون سے قابلِ اعتراض مواد اور اسکرین شاٹس برآمد ہوئے ہیں۔ حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملزم کا رابطہ پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹوز سے تھا یا نہیں۔
اے ٹی ایس کے مطابق ملزم ایک ٹیلی گرام گروپ چلاتا تھا، جہاں یکم جون 2026 کو جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی تقاریر کے آڈیو کلپس مبینہ طور پر اپ لوڈ کیے گئے تھے۔ ان تقاریر میں بابری مسجد اور دیگر موضوعات کا ذکر ہونے کی بات کہی گئی ہے۔ تفتیش کار یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ ملزم پاکستان کی حمایت یافتہ قرار دیے جانے والے انتہا پسند ٹیلی گرام چینل ’IBN-e-Qasim‘ کا فعال رکن یا سبسکرائبر تھا اور اس کے ذریعے کن افراد سے رابطے میں تھا۔
گجرات میں بھی جیش محمد سے مبینہ روابط کے معاملے میں گرفتاریاں
دوسری جانب، گجرات میں بھی اے ٹی ایس نے جیش محمد سے مبینہ روابط کے شبہے میں متعدد افراد کے خلاف کارروائی کی تھی۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں پٹن ضلع کے سدھ پور تعلقہ کے کھڈیال گاؤں سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ حکام نے بتایا تھا کہ ان افراد کے نام پہلے گرفتار کیے گئے آٹھ مشتبہ افراد سے متعلق تحقیقات کے دوران سامنے آئے تھے۔
گجرات کیس میں سرکاری وکیل پی آر دنتانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزمان سے تحویل میں پوچھ گچھ ضروری ہے۔ ان کے مطابق تفتیش میں ایک ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر ٹائم بم بنانے کی کوشش کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا، جبکہ تفتیش کار بم سازی سے متعلق مواد اور ممنوعہ تنظیم سے منسوب اردو لٹریچر کی تلاش کر رہے تھے۔ حکام یہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ مواد کہاں سے حاصل کیا گیا اور اسے کہاں رکھا گیا تھا۔
ممبئی میں اے ٹی ایس اب ضبط شدہ موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ٹیلی گرام سرگرمیوں سے متعلق ڈیجیٹل شواہد کا تجزیہ کر رہی ہے۔ ایجنسی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا اس معاملے میں ممبئی یا مہاراشٹر کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مزید افراد ملوث ہیں۔ ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 196(1) کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے، جو مختلف گروہوں کے درمیان مذہب، زبان اور دیگر بنیادوں پر دشمنی کو فروغ دینے اور سماجی ہم آہنگی کے خلاف اقدامات سے متعلق ہے۔



