
بالی ووڈ اداکاروں کو دھمکیاں دے کر اُن سے تاوان کی رقم وصول کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 30 سال قبل ملک میں موسیقی کے بزنس سے جڑی سب سے بڑی شخصیت گلشن کمار کا تین شوٹروں نے بڑی بیدردی سے قتل کیا تھا۔ وہ واقعہ جس نے ساری فلم انڈسٹری اور خاص طور پر میوزک انڈسٹری کو ہلاکر رکھ دیا تھا، 12 اگست 1997ء میں پیش آیا تھا۔ شوٹروں نے گلشن کمار کو یہ کہتے ہوئے گولیاں ماری تھیں کہ بہت پوجا کرلی۔ اب اوپر جاکے کرنا۔
اس دن صبح حسب معمول گلشن کمار شیو مندر پہنچ کر پوجا کی تھی اور وہاں سے نکلے ہی تھے کہ ان پر شوٹروں نے گولیاں چلائیں۔ اس طرح ایک نہیں، دو نہیں بلکہ 16 گولیاں ان کے جسم میں اُتر گئیں، کنپٹی کو بھی نشانہ بنایا۔ آخر گلشن کمار کا جرم کیا تھا؟ یہی کہ انہوں نے انڈور ورلڈ کو تاوان کی دوسری قسط 10 کروڑ روپئے ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ انڈر ورلڈ نے گلشن کمار کی 45 کمپنیوں اور اسٹوڈیوز پر مشتمل موسیقی کی سلطنت پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ یہ کمپنیاں اور اسٹوڈیو ممبئی اور دہلی کے مختلف مقامات میں پھیلی ہوئی تھیں اور جن کی جملہ مالیت ایک اندازہ کے مطابق 350 کروڑ روپئے تھی۔
گلشن کمار کے قتل نے ممبئی فلم انڈسٹری میں خوف اور شکوک و شبہات کا ایک نیا دور شروع کیا۔ اسی سال 31 جولائی کو فلم پروڈیوسر و ڈائریکٹر راجیو رائے پر بھی ان کے دفتر میں حملہ کیا گیا کیونکہ انہوں نے بھی تاوان کی رقم دینے سے انکار کیا تھا۔ اسی طرح اُس دور کے مشہور و معروف ہدایت کار سبھاش گھئی کو بھی کم از کم دو کالس موصول ہوئے جن میں 5 کروڑ روپئے بطور تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
مذکورہ حملوں کے تین دہے بعد ٹائیگر شراف پر دو شوٹروں نے جوہو کے پرہجوم علاقہ میں بالکل قریب سے گولیاں چلادیں۔ ٹائیگر شراف خوش قسمت رہے کہ اس حملے میں وہ بچ گئے لیکن اس واقعہ نے فلم انڈسٹری میں خوف و دہشت کی ایک نئی لہر پیدا کردی۔ اس واقعہ سے کچھ ماہ قبل نامعلوم بندوق برداروں نے فلم ساز روہت شیٹی کی ہمہ منزلہ رہائش گاہ پر پانچ راؤنڈ فائرنگ کی تھی۔ شیٹی ٹاور بھی جوہو میں واقع ہے۔
ان دونوں حملوں کی ذمہ داری لارنس بشنوئی سے جڑی ٹولیوں نے لی۔ لارنس بشنوئی فی الوقت سابرمتی سنٹرل جیل احمدآباد (گجرات) میں بند ہے۔ اسے وہاں 2023ء سے قید میں رکھا گیا۔ منشیات کی اسمگلنگ کے ایک کیس میں گجرات اے ٹی ایس نے تہاڑ جیل سے اسے سابرمتی جیل منتقل کیا تھا۔
ان حملوں پر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ حملے پرہجوم مقام پر کئے گئے اور ان میں غیرمعروف شوٹروں کو استعمال کیا گیا اور اس خطرناک کھیل میں کھلاڑی بدلتے رہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 1990ء کے دہے کے دوران ممبئی میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کا دور تھا۔ 1993ء ممبئی بم دھماکوں کے بعد نفاذ قانون کی ایجنسیاں داؤد ابراہیم کے پیچھے پڑگئی تھیں اور فی الوقت ممبئی میں داؤد ابراہیم یا D کمپنی کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا بلکہ یہاں دوسری ٹولیاں دکھائی دیتی ہیں اور ان ٹولیوں کو جیل میں بیٹھا ایک شخص چلارہا ہے۔
فلم ڈائریکٹر رام گوپال ورما کے مطابق یہ ایک برائی کی پیداوار ہے اور Brand Building کی ایک کوشش ہے جس کیلئے ایک Celebrity پر حملہ سے بہتر کوئی اور چیز نہیں۔ لارنس بشنوئی نے سلمان خان کو پہلی مرتبہ 2018ء میں قتل کی دھمکیاں دی تھی اور یہ دھمکیاں مبینہ طور پر سیاہ ہرنوں کے شکار پر دی گئی تھیں اور سیاہ ہرن بشنوئی کمیونٹی کیلئے مقدس مانا جاتا ہے۔ 1998ء میں فلم ’’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ کی شوٹنگ کے دوران سیاہ ہرن کا شکار کیا گیا۔ اس وقت بشنوئی کی عمر صرف 7 سال تھی لیکن اُس نے سیاہ ہرن کے شکار کا انتقام لینے کا عہد کیا۔
مشہور گلوکار اور Rapper سدھو موسے والا کے سال 2022ء میں قتل کے بعد بشنوئی نے سلمان خان کو دوبارہ انتباہ دیا تھا۔ سال 2023ء میں بشنوئی نے اداکار و گلوکار جیپی گریوال کے گھر پر گولیاں چلائی تھیں۔ بعد میں اس نے دعویٰ کیا کہ سلمان خان سے قربت کی وجہ سے اس کے گھر پر گولیاں چلائی گئیں، لیکن گریوال نے سلمان خان سے دوستی کی تردید کی۔
اپریل 2024ء میں لارنس بشنوئی کے بھائی انمول نے سلمان خان کے گیلکسی اپارٹمنٹ کے فرسٹ فلور پر گولیاں چلانے کی ذمہ داری قبول کی اور اسے یہ پہلی اور آخری وارننگ قرار دیا۔ اس کے نتیجہ میں سلمان خان جو اپنے فرسٹ فلور سے مداحوں کی محبت کا جواب دیا کرتے تھے، اسے روک دیا جبکہ جنوری 2025ء سے بالکونی اور کھڑکیوں کو بلٹ پروف گلاس سے ڈھانک دیا گیا ہے۔
پھر سے اکٹوبر 2024ء میں لارنس بشنوئی کی ٹولی نے مہاراشٹرا کے سابق کابینی وزیر اور ممبئی کی بااثر شخصیت بابا صدیقی کے قتل کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ سلمان خان سے قریبی دوستی کی وجہ سے بابا صدیقی کا قتل کیا گیا۔ ٹائیگر شراف کے کیس میں بھی بشنوئی کے ساتھ انیل پنڈت نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ سلمان خان کے ساتھ کام کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ ایسا ہی ہوگا۔
ویسے بھی ممبئی فلم انڈسٹری اور انڈر ورلڈ کا ساتھ بہت پرانا ہے۔ سونے کے اسمگلر حاجی مستان سے اس کی شروعات ہوتی ہے۔ ان تعلقات کو ملن لوتھریا کی فلم “Once upon a Time in Mumbai” جوکہ سال 2010ء میں ریلیز ہوئی تھی، میں پیش کیا گیا جس میں اجئے دیوگن نے ڈان کا کردار ادا کیا۔ حاجی مستان کے بعد ممبئی میں انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم منظر عام پر آیا۔ وہ بالی ووڈ سے بہت زیادہ متاثر تھا۔ اس طرح فلم انڈسٹری اور مافیا کے درمیان تعلقات کو ایک نئی جہت حاصل ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک مرحلے پر 40% ہندی فلمیں انڈر ورلڈ کے پیسے تیار ہوئیں۔ کئی ایسے لوگ جن کا کبھی بھی فلم انڈسٹری سے تعلق نہیں تھا، پروڈیوسرس بن بیٹھے۔ حنیف کڑا والا اور سمیر لکڑا والا جیسے لوگوں کو داؤد ابراہیم کی دولت نے بزنسمین بنادیا۔ ان دونوں کو ویڈیو قزاق کہا جاتا تھا۔ اس طرح ایرانڈیا کا ایک سابق کارگو ہینڈلر مکیش دوگل ملبوسات کا تاجر دنیش پٹیل ایک کپڑوں کی دکان کا مالک ان سب کے نام مبینہ طور پر داؤد کا پیسہ فلم انڈسٹری میں لگانے والوں کے طور پر لئے جاتے ہیں۔
شارجہ کے کرکٹ اسٹیڈیم میں یہ لوگ داؤد کے باکس میں بیٹھے دکھائی دیتے تھے، لیکن 1993ء کے بمبئی سلسلہ وار دھماکوں نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا اور ’’بھائی‘‘ ناپسندیدہ شخص بن گیا اور سنجے دت کو داؤد ابراہیم کے ایک آدمی کی جانب سے ایک AK47 حوالے کئے جانے اور پھر سنجے دت کی گرفتاری نے ان کے کیریئر کے عارضی خاتمہ کا اشارہ تھا۔
ممبئی میں پھر داؤد ابراہیم کے سابق ساتھی چھوٹا راجن (فی الوقت وہ کئی ایک مقدمات میں سزائے عمر قید کاٹ رہا ہے) اسے انڈونیشیا کے جزیرہ بالی سے 2015ء میں ہندوستان کے حوالے کیا گیا تھا) چھوٹا شکیل (جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فی الحال کراچی میں روپوش ہے اور 1993ء کے بمبئی سلسلہ وار بم دھماکوں کے ضمن میں وہ ہندوستان کو شدت سے مطلوب ہے) اور ابو سالم (جو فی الوقت ناسک سنٹرل جیل میں سزائے عمرقید کاٹ رہا ہے) ان سب نے اچارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی لیکن حالات بدل چکے تھے۔ اس لئے کسی کا سکہ نہیں چل سکا۔
داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن کے درمیان پھوٹ کو سال 2002ء کی فلم ’’کمپنی‘‘ میں پیش کیا گیا۔ ڈائریکٹر انوراگ کیشپ نے اس کی کہانی لکھی تھی جبکہ رام گوپال ورما اس کے ڈائریکٹر تھے۔ ممبئی پولیس نے انڈر ورلڈ مافیا کے خلاف انکاؤنٹرس کا سلسلہ شروع کیا اور 2005ء تک ممبئی پولیس کے انکاؤنٹر اسپیشلسٹس نئے ہیروز کے طور پر اُبھرے جس پر ’’اب تک چھپن‘‘(2004ء) جیسی فلم بنائی گئی جس کی ہدایت Shimit Amin نے دی تھی اور آنجہانی نانا پاٹیکر نے انکاؤنٹر اسپیشلسٹ دپا نائیک کا کردار ادا کیا تھا۔
ڈائریکٹر مہیش بھٹ کے مطابق انڈر ورلڈ نے ہندی فلم انڈسٹری کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ سال 2000ء میں ڈائریکٹر راکیش روشن پر ان کے دفتر کے باہر گولیاں چلائی گئیں۔ اداکارہ منیشا کوئرالہ کے سیکریٹری اجیت دیوان کو 2001ء میں گولی مارکر قتل کردیا گیا۔ اب ساری توجہ سلمان خان پر مرکوز ہے۔ ان سے کہہ دیا گیا ہے کہ احتیاط برتیں۔
’’بگ باس‘‘ جیسے پروگرام کے بھی وہ میزبان ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلم ’’چوری چوری چپکے چپکے‘‘ کیلئے چھوٹا شکیل نے فینانس کیا تھا اور اسے ہیروں کے تاجر بھرت شاہ نے پروڈیوس کیا تھا۔ اس فلم میں سلمان خان نے اہم رول ادا کیا تھا اور ممبئی پولیس نے اُن سے مبینہ طور پر پوچھ گچھ بھی کی تھی۔



