بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو کو اقتدار سے محرومی کا خطرہ، گادی آئزن کوٹ کی جماعت سروے میں آگے

اسرائیل کے انتخابی معرکے میں کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔

تل ابیب، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات سے قبل جاری ہونے والے تازہ رائے عامہ کے جائزوں نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے لیے اقتدار برقرار رکھنے کی راہ مشکل ہونے کے اشارے دیے ہیں۔ سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشر متعدد سروے میں نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے آگے دکھائی دے رہی ہے، تاہم انتخابی نتائج کے بعد کسی بھی سیاسی اتحاد کے لیے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کرنا یقینی نہیں ہے۔

فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، اسرائیل میں انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے والے ہیں۔ ایران کے ساتھ تنازع کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور سرحدی سلامتی کے خدشات کے درمیان یہ انتخاب ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں سامنے آنے والے سروے اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نئی پارلیمنٹ میں کسی ایک سیاسی اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہ ہو۔

رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا میں شائع ہونے والے چار حالیہ سروے میں گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشر کو نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی پر برتری حاصل رہی۔ تاہم تمام سروے ایک جیسے نتائج پیش نہیں کرتے اور بعض جائزوں میں نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد کی پوزیشن نسبتاً مضبوط دکھائی گئی ہے۔

اس صورت حال میں انتخابی نتائج کے بعد چھوٹی جماعتوں کا کردار انتہائی اہم ہوسکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں مختلف جماعتوں کو حاصل ہونے والی نشستیں اس بات کا فیصلہ کریں گی کہ حکومت سازی کے لیے کون سا اتحاد مطلوبہ حمایت جمع کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے اپنی انتخابی مہم میں قومی سلامتی کو مرکزی اہمیت دی ہے۔ ’ان کا کہنا ہے کہ ایران سمیت دیگر سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ان کی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اہم ہیں۔

نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد میں لیکوڈ پارٹی کے علاوہ ایتامار بن گویر کی قیادت والی انتہائی دائیں بازو کی جماعت یہودی طاقت اور وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ سے وابستہ مذہبی صیہونیت پارٹی شامل ہیں۔ انتخابی مقابلے میں اس اتحاد کی کارکردگی حکومت کی آئندہ تشکیل کے امکانات پر براہ راست اثر انداز ہوسکتی ہے۔

گادی آئزن کوٹ کون ہیں؟

گادی آئزن کوٹ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں اور نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں قومی سلامتی، قیادت کی تبدیلی اور حکومتی جواب دہی پر زور دیا ہے۔

آئزن کوٹ کی انتخابی مہم میں قیادت کی تبدیلی اور حکومتی جواب دہی پر زور دیا جا رہا ہے۔ وہ نیتن یاہو کے طویل دورِ اقتدار پر تنقید کرتے ہوئے اسرائیل کی سلامتی سے متعلق فیصلوں اور حکومتی کارکردگی کا احتساب کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں اکثریت کیسے حاصل ہوتی ہے؟

اسرائیل کی پارلیمنٹ کو کنیسٹ کہا جاتا ہے، جس کی مجموعی نشستوں کی تعداد 120 ہے۔ ملک میں متناسب نمائندگی کا انتخابی نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر انفرادی امیدواروں کے بجائے سیاسی جماعتوں کو ووٹ دیتے ہیں اور جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں مختص کی جاتی ہیں۔

پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنے کے لیے کسی جماعت کو کم از کم 3.25 فیصد درست ووٹ حاصل کرنا ضروری ہے۔ حکومت بنانے اور پارلیمانی اکثریت قائم کرنے کے لیے 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔

اس نظام کے تحت چھوٹی جماعتیں بھی حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں۔ اگر کسی بڑے سیاسی اتحاد کو مطلوبہ نشستیں نہ ملیں تو اسے دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا پڑسکتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے مذاکرات اہم ہوجاتے ہیں۔

نیتن یاہو کی ممکنہ شکست کی صورت میں اسرائیل کی خارجہ پالیسی، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور مغربی ایشیا میں اس کی حکمت عملی پر بحث تیز ہوسکتی ہے۔ تاہم کسی نئی حکومت کی پالیسیوں میں تبدیلی کا انحصار اس کے اتحادیوں، پارلیمانی حمایت اور خطے کی سکیورٹی صورت حال پر ہوگا۔

اسرائیل کے انتخابات کے نتائج کا اثر بھارت اور امریکہ سمیت ان ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی پڑسکتا ہے جو اسرائیل کے ساتھ سفارتی، دفاعی یا تجارتی روابط رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نئی حکومت بننے کی صورت میں ان تعلقات میں کس نوعیت کی تبدیلی آئے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button