
نئی دہلی، 26 اکتوبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) انڈیا بلاک کی جانب سے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں مجوزہ ’ووٹ بچاؤ، دیش بچاؤ‘ ریلی کے اعلان کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اسی دن سے ملک گیر سطح پر ایک ماہ طویل پیدل مارچ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس مہم میں بی جے پی کی قیادت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور مرکزی وزراء سمیت پارٹی کی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، بی جے پی اس مہم کے ذریعے اپوزیشن اتحاد کی ریلی کا سیاسی جواب دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ پارٹی کے قومی صدر نتن نوین بھی بعض پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے 2 نومبر کو حیدرآباد اور 5 نومبر کو ہریانہ میں پیدل مارچ میں حصہ لینے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
انڈیا بلاک نے یکم نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں بڑی ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا چاہتی ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ انتخابی عمل میں ووٹوں کی چوری اور بے ضابطگیوں کے خدشات موجود ہیں۔
ریلی کے انتظامات کے سلسلے میں دہلی پولیس نے 25 اکتوبر سے 3 نومبر تک سکیورٹی اور ٹریفک سے متعلق تال میل کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (NOC) جاری کیا ہے۔ تاہم، ریلی کی تاریخ کو لے کر سیاسی تنازع بھی سامنے آیا ہے۔ بی جے پی نے یکم نومبر کی تاریخ پر اعتراض کرتے ہوئے اسے 1984 میں دہلی میں ہونے والے مخالف سکھ تشدد کی برسی سے جوڑا ہے۔
دوسری جانب، چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (CTI) نے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو خط لکھ کر ریلی 10 نومبر کے بعد منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ تجارتی تنظیم کا کہنا ہے کہ تہواروں کے موسم کے دوران ریلی سے شہر کے کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے تسلیم کیا ہے کہ بعض تاجروں نے اس معاملے پر یادداشت پیش کی ہے۔ ان کے مطابق، ریلی کے بارے میں آئندہ فیصلہ کانگریس اور انڈیا بلاک میں شامل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
تجارتی تنظیم نے کھڑگے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دہلی کے تاجروں کے لیے امید افزا قرار دیا ہے۔ اب ریلی کی تاریخ اور بی جے پی کی مجوزہ ملک گیر مہم کے دوران دونوں سیاسی محاذوں کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز رہے گی۔



