قومی خبریں

لکھیم پور کھیری تشدد کیس: آشیش مشرا کو سپریم کورٹ سے راحت، دیوالی پر گھر جانے کی اجازت

2021 کے کسان احتجاج میں آٹھ افراد کی ہوئی تھی موت

نئی دہلی، 26 اکتوبر  (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) لکھیم پور کھیری تشدد معاملے میں ملزم آشیش مشرا کو دیوالی کے موقع پر اپنے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے سپریم کورٹ سے اجازت مل گئی ہے۔ عدالت نے انہیں اتر پردیش کے لکھیم پور کھیری میں اپنے آبائی گھر جانے کی رعایت دیتے ہوئے 16 نومبر تک واپس لوٹنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ اجازت ضمانت کی پہلے سے نافذ شرائط کے تابع ہوگی۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے پیر کو آشیش مشرا کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔ ان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں دیوالی منانے کے لیے تقریباً ایک ہفتے تک اہل خانہ کے ساتھ رہنے کی اجازت دی جائے۔ وکیل نے یہ بھی بتایا کہ اس سے قبل تہواروں کے موقع پر عدالت انہیں ایسی رعایت دے چکی ہے۔

بنچ نے درخواست منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ آشیش مشرا دیوالی کے موقع پر اپنے گھر والوں اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے لکھیم پور کھیری جا سکتے ہیں، تاہم انہیں ضمانت کی تمام شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔

سماعت کے دوران عدالت نے لکھیم پور کھیری تشدد کیس میں مقدمے کی کارروائی کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا۔ اتر پردیش حکومت کی اسٹینڈنگ کونسل روچیرا گوئل نے بنچ کو بتایا کہ معاملے میں خصوصی سرکاری وکیل (ایس پی پی) مقرر کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے مقدمے کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سماعت میں نہ ضرورت سے زیادہ عجلت ہونی چاہیے اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ عدالت کے مطابق استغاثہ کو دونوں پہلوؤں کے درمیان مناسب توازن برقرار رکھنا ہوگا، تاکہ کارروائی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مقررہ وقت میں مکمل ہو سکے۔

سماعت کے دوران مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کے تبادلے کا موضوع بھی سامنے آیا۔ اس سے پہلے متاثرین کی جانب سے ٹرائل جج کے طرز عمل سے متعلق اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ متاثرین کے وکیل پرشانت بھوشن نے تبادلے کے سلسلے میں ہونے والی کارروائی پر اطمینان ظاہر کیا۔

دوسری جانب آشیش مشرا کے وکیل سدھارتھ دوے نے عدالت کو بتایا کہ جج کا تبادلہ ایک معمول کی انتظامی کارروائی تھی اور اسے ان کے خلاف کسی شبہے یا منفی نتیجے سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کسی فرد کے خلاف الزام نہیں لگا رہی ہے۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کیے گئے اصلاحی اقدامات کافی ہیں۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ کی 22 ستمبر کی ہدایت سے متعلق ہے، جس کے تحت ٹرائل جج کے طرز عمل پر اعتراضات اٹھانے والی درخواست الہ آباد ہائی کورٹ کو مناسب کارروائی کے لیے بھیجی گئی تھی۔ عدالت نے اس معاملے پر رپورٹ سیل بند لفافے میں پیش کرنے کی ہدایت بھی دی تھی۔

2021 کے تشدد میں آٹھ افراد کی ہوئی تھی موت

لکھیم پور کھیری تشدد کا واقعہ 3 اکتوبر 2021 کو پیش آیا تھا، جب اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ کے دورے کے خلاف کسان احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران ہونے والے تشدد میں مجموعی طور پر آٹھ افراد کی جان چلی گئی تھی۔

اتر پردیش پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق، احتجاج کرنے والے چار کسانوں کو ایک ایس یو وی نے کچل دیا تھا، جس میں آشیش مشرا کے سوار ہونے کا الزام ہے۔ اس واقعے کے بعد معاملہ قومی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا تھا اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے مقدمے کی کارروائی پر مسلسل نظر رکھی جاتی رہی ہے۔

جنوری 2023 میں سپریم کورٹ نے آشیش مشرا کو سخت شرائط کے ساتھ عبوری ضمانت دی تھی۔ ان شرائط میں اتر پردیش میں داخلے پر پابندی بھی شامل تھی، سوائے مقدمے کی سماعت میں شرکت کے لیے ضروری حاضری کے۔ عدالت نے یہ تنبیہ بھی کی تھی کہ گواہوں کو متاثر کرنے کی کسی کوشش کی صورت میں ضمانت منسوخ کی جا سکتی ہے۔

جولائی 2024 میں سپریم کورٹ نے ان کی عبوری ضمانت کو مستقل قرار دیتے ہوئے بعد میں بعض شرائط میں نرمی کی تھی۔ اس کے تحت انہیں لکھنؤ یا دہلی میں رہنے اور محدود مدت کے لیے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔ اب دیوالی کے موقع پر لکھیم پور کھیری جانے کی اجازت اسی مقدمے میں ضمانت سے متعلق شرائط کے تحت دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button