
ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی تیاریاں؟ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، اسرائیل ہائی الرٹ، فوجی تیاریاں تیز
ایران پر ممکنہ حملے کے خدشات، اسرائیل کی فوجی تیاریاں عروج پر پہنچ گئیں۔
واشنگٹن، 2 نومبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران پر دوبارہ بڑے فوجی حملے کرنے کے امکان کا اظہار اور دوسری طرف اسرائیل میں فوجی تیاریوں کو انتہائی سطح تک پہنچانے کی اطلاعات نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ فوجی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان فوجی اور انٹیلی جنس رابطے بھی تیز ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی ویب سائٹ ’’واللا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے ممکنہ جارحانہ اور دفاعی کارروائیوں کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج اور متعلقہ سکیورٹی ادارے مختلف ممکنہ حالات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔
رپورٹ میں باخبر سکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتی ہے تو اسرائیل کو واشنگٹن کی جانب سے پہلے ہی مطلع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون، امریکی سینٹرل کمانڈ اور اسرائیلی وزارت دفاع کے درمیان رابطہ کاری اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کا عمل بھی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام مسلسل رابطے میں ہیں اور آنے والے دنوں کو سکیورٹی کے اعتبار سے انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے اعلیٰ کمانڈروں اور امریکی فوجی حکام کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر مشاورت بھی جاری ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو مبینہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر ایران کے خلاف مزید سخت فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق نتن یاہو چاہتے ہیں کہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف بڑے حملے کیے جائیں۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا امکان مسترد نہیں کیا۔ ریاست آئیووا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اب تک ایران کے معاملے میں نرمی اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہیں چاہتے، تاہم کسی مرحلے پر امریکہ کو ایران پر زوردار حملے کرنے پڑ سکتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان پر تہران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جنگ شروع کی تو یہ سابقہ جنگ سے زیادہ طویل ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ یہ فیصلہ نہیں کر سکے گا کہ جنگ کب ختم ہوگی اور اس کی شرائط کیا ہوں گی۔
ایرانی وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے بھی کسی نئی جارحیت کی صورت میں فیصلہ کن اور مؤثر جواب دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ ممکنہ تصادم کی صورت میں کارروائی کا دائرہ کسی مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گا۔
اس تمام تر کشیدگی کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ایران اور قطری ثالثوں کے درمیان امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان بات چیت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دفاع اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تھی، جس کے جواب میں تہران نے خلیجی خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا۔ اپریل میں تقریباً 40 روزہ شدید لڑائی کے بعد جنگ بندی ہوئی، لیکن بعد کے واقعات اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث حالات دوبارہ خراب ہو گئے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے ذریعے تہران پر معاشی دباؤ بھی بڑھایا۔
اب ایک طرف قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے ذریعے جنگ ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کی غیر معمولی فوجی تیاریوں، نتن یاہو کے مبینہ دباؤ اور ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں نے خطے کو ایک نئے ممکنہ تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں واشنگٹن کا فیصلہ نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



