
لکھنؤ،4جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش کے دارالحکومت #لکھنؤ کی ریور بینک کالونی میں بی ایس پی کے سابق ممبر #پارلیمنٹ داؤد کے ذریعہ تعمیر ایک کثیر المنزلہ اپارٹمنٹ کو آج حکومت نے منہدم کردیا۔ اے ایس آئی نے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ #دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اسے دور دور تک سنا جاسکا۔ اس منہدم عمارت کی لاگت 100 کروڑ روپے بتائی جارہی ہے۔
عمارت گرتے وقت اسے توڑ رے ایک پوکلن مشین کا ڈرائیوراس کی زدمیں آگیا، جسے معمولی چوٹیں آئیں، لیکن اس کی جان بچ گئی۔ #لکھنؤ کے ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک پرکاش نے بتایا کہ تعمیراتی کام اے ایس آئی کے تحت آثار قدیمہ کی اہمیت کی کسی بھی یادگار سے 300 میٹر کے فاصلے پر ہی ہوسکتا ہے۔ یہ عمارت تاریخی رہائش گاہ سے صرف 123 میٹر دور تھی۔
बी एस पी के पूर्व एम पी दाऊद का लखनऊ में बन रहा मल्टी स्टोरीड रेजिडेंशियल अपार्टमेंट सरकार ने ज़मींदोज़ कर दिया।इसकी लागत 100 करोड़ बताई जा रही है।यह ए एस आई के मोन्यूमेंट रेजीडेंसी के बहुत क़रीब बन रहा था।जिसने इसे गिराने का आदेश दिया था। pic.twitter.com/Uozb1klqW2
— Kamal khan (@kamalkhan_NDTV) July 4, 2021
اے ایس آئی نے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا تھا۔ داود نے اس کے خلاف ہائی کورٹ میں رجوع کیا تھا لیکن ان کی درخواست مسترد کردی گئی۔ لکھنؤ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے عمارت کا نقشہ منسوخ کردیا تھا۔ اس کے خلاف وہ عدالت بھی گئے لیکن ان کی #درخواست بھی مسترد کردی گئی۔



