تلنگانہ کی خبریںجرائم و حادثات

25 سال بعد قدرت کا انتقام معصوم نوجوان کو جلاکر دادوتحسین پانے والے خود بھی خاکستر

تلنگانہ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) میدک ٹاؤن کے رئیل اسٹیٹ تاجر مسٹر دھرماکر کٹکے سرینواس کی منگل پرتی پر کار کے ساتھ جلائے جانے کے بعد کچھ بچی ہوئی ہڈیوں اور راکھ کو میدک لایا گیا اس کے آبائی مکان واقع بادا امام گلی سے آخری رسومات کے سفر کا آغاز ہوا ۔ سرینواس کے رشتہ دار دوست احباب کی بڑی تعداد ارتھی جلوس میں شریک تھی جو #سرینواس امر ہے کے نعرے لگارہے تھے ۔ ارتھی جلوس جو ہی رام داس ایکس وے پہونچا جہاں نصف گھنٹے تک خاطیوں کو #گرفتار اور انہیں کیفرکردار تک پہونچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے راستہ روکو پروگرام منظم کیا گیا ۔

برہم دوست احباب مقامی ڈاکٹر ایچ چندرشیکھر ( انورادھا نرسنگ ہوم ) اعظم پورہ کو گرفتار کرنے کا بھی مطالبہ کیا ۔ بتایا جاتا ہیکہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں ڈاکٹر بھی شامل ہے ۔ بعدازاں آخری رسومات ادا کی گئی ۔ پولیس کی مداخلت پر ارتھی جلوس آگے بڑھا۔ مہلوک سرینواس واضح رہے کہ 1995 ڈسمبر میں میدک میں ایک #معصوم نوجوان گونگے #قصاب کو ڈیزل چھڑک کر ہلاک کر ڈالا تھا ۔ سرینواس کا تعلق #وشواہندو #پریشد اور #بجرنگ دل سے تھا ۔

1995 میں جب #میدک میں یہ واقع پیش آیا تھا فیض آباد #اُترپردیش کے اس وقت کے رکن لوک سبھا مسٹر ونئے کٹیار خاص کر میدک آکر دھرماکر سرینواس سے ملاقات کی اور اس کی ایسی حرکت پر خوب داد بھی دیا تھا علاوہ ازیں مسٹردھرماکر نے بائبل بھی جلایا تھا اس وقت دھرماکر کی فرقہ پرستی کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہاپسندوں نے بھی دو بار اس پر فائر کئے تھے لیکن وہ بچ گیا تھا ۔ دھرماکر سرینواس کے پسماندگان میں شریک حیات دو لڑکیاں اور ایک لڑکا کے علاوہ ضعیف ماں بھی ہے ۔

پولیس   سرینواس کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے۔ پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوا کہ مقتول کا رئیل اسٹیٹ کے تاجروں سے جھگڑا تھا اور کئی خواتین کے ساتھ غیر شادی شدہ تعلقات بھی تھے۔سرینواس کے قتل کے خلاف مقتول کی بیوی ہندوی کی شکایت کے مطابق آئی پی سی کی دفعات 302 اور 201 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے چار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ پولیس نے کہا کہ وہ سیل فون کال ڈیٹا ، سی سی ٹی وی فوٹیج اور سی ڈی آر تجزیہ کی بنیاد پر تفتیش کر رہے ہیں اور جلد ہی ملزمان کو پکڑ لیں گے۔

دو دن قبل دھرماکر سرینواس کو ضلع میدک کے ویلدورتی زون کے نواحی علاقے یشونت راؤ پیٹا میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ غنڈوں نے اسے ڈکی میں ڈال دیا اور گاڑی کو آگ لگا دی۔ گاؤں کے ایک نوجوان نے اپنے سیل فون پر ایک ویڈیو لی اور اسے واٹس ایپ گروپس پر پوسٹ کیا جبکہ ایک گاڑی کھیتوں میں آگ لگ رہی تھی۔ مقامی لوگوں کے ذریعے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ویلڈورتی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

لاش مکمل طور پر زمین پر جل چکی تھی اور ناقابل شناخت تھی۔ اور نمبر پلیٹ بھی جل گئی تھی ، پولیس نے انجن چیسس نمبر کی بنیاد پر گاڑی کی شناخت دھرماکر سرینواس عرف کیٹیک سرینو سے کی ، جو ایک سنیما تھیٹر کے مالک اور میدک کے رئیل اسٹیٹ بزنس مین تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button