نئی دہلی19اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات ہائی کورٹ نے جمعرات کو انسدادلو جہاد قانون سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیا۔ #ہائی کورٹ نے ایکٹ کی بعض دفعات پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ #گجرات ہائی #کورٹ نے ایک عبوری حکم میں کہاہے کہ اس قانون کی دفعات ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوسکتیں جنہوں نے بین مذہبی شادی میں زبردستی یا دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔
#عدالت نے فیصلہ دیاہے کہ #بالغوں کے درمیان آزادانہ رضامندی اور بین مذہبی #شادی بغیر کسی لالچ یا دھوکہ دہی کے غیر قانونی تبدیلی مذہب کے مقصد کے لیے شادی نہیں کہی جا سکتی۔عدالت نے عبوری حکم 2021 ترمیم کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست کے جواب میں منظور کیا جسے افراد کی پسند اور مذہب کی آزادی کی خلاف ورزی اور افراد کی ذاتی خودمختاری پر حملہ کے طور پر دیکھا گیا۔



