
طالبان کی فتح کے بعد بالآخر افغانستان کا اکلوتا یہودی (Zablon Simintov ) بھی ملک چھوڑگیا
کابل ؍اسلام آباد ، 10ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں رہنے والا آخری اور اکلوتا یہودی Jew طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ زیبیولون سیمنتوف Zablon Simintov کے لیے ملک چھوڑنے کا بندوبست کرنے والے ایک #اسرائیلی نژاد #امریکی کاروباری #شخص نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ افغانستان میں رہنے والے آخری #یہودی نے جمعے کو ملک چھوڑا اور وہ ایک پڑوسی ملک میں بدھ کو پہنچے‘۔
#امریکہ میں ایک نجی سکیورٹی فرم چلانے والے موتی کاہانہ کا کہنا تھا کہ زیبیولون سیمنتوف کئی دہائیوں تک افغانستان چھوڑنے کے لیے راضی نہیں تھے۔
| Join Urdu Duniya WhatsApp Group |
افغانستان میں سوویت یونین کے قبضے، خانہ جنگی، طالبان کے دور حکومت اور پھر امریکہ کے آنے کے باوجود بھی انہوں نے اپنا ملک نہیں چھوڑا تھا۔وہ پہلے ہی 1996 سے 2001 تک افغانستان میں طالبان کا دور دیکھ چکے تھے۔ جب موتی کہانا کی #سکیورٹی ٹیم ان کی روانگی سے 10 روز قبل ان کے پاس پہنچی ،تو وہ ملک چھوڑ کر جانے کے لیے مکمل طور پر آمادہ نہیں تھے۔ موتی کہانا نے بتایا کہ زیبیولون سیمنتوف کو #داعش خراساں کے شدت پسندوں سے خطرہ تھا۔
اس وقت وہ باہر نہیں نکلنا چاہتے تھے۔ تاہم بعد میں وہ ملک چھوڑنے پر راضی ہوگئے۔زیبیولون سیمنتوف نے موتی کہانا سے پوچھا کہ آیا وہ ان کے سب سے اچھے دوست‘ اور ان کے بچوں کو بھی ساتھ لے جا سکتے ہیں۔اس طرح 29 پڑوسی زیبیولون سیمنتوف کے ساتھ سفر میں شریک ہوئے۔موتی کہانا نے بتایا کہ زیبیولون سیمنتوف کے خاندان کے کچھ افراد نیو یارک میں ہیں اور وہ ممکنہ طور پر اگلے ہفتے یوم کیپور کی چھٹیوں پر ان کے پاس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
گذشتہ دہائیوں کے دوران زیبیولون سیمنتوف کی اہلیہ اور دو بیٹیوں سمیت ان کے رشتہ دار افغانستان چھوڑ کر چلے گئے۔ واضح رہے کہ افغانستان میں یہودی ڈھائی ہزار سال سے زائد عرصے تک رہے، ان میں سے ہزاروں ہرات میں مقیم ہوا کرتے تھے، جہاں اب تک چار سیناگاگ موجود ہیں۔
یہ سیناگاگ ملک میں یہودیوں کی قدیم زمانے سے موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم 19 ویں صدی سے اب تک یہودیوں کی بڑی تعداد افغانستان چھوڑتی رہی اور ان میں سے کئی اب اسرائیل میں آبسے ہیں ۔



