
لندن، 14ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)برطانوی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی شدت پر قابو پانے کے لیے ویکسین لگوانا کافی ہے جبکہ #بوسٹر #خوراک کی فی الحال ضرورت نہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی سائنسی جریدے ’دا لینسٹ‘ میں پیر کو شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ عام عوام کو #ویکسین کی بوسٹر خوراک لگوانے کی ضرورت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ چند ممالک نے ڈیلٹا ویرئنٹ کے خدشے کے باعث ویکسین کی اضافی #خوراکیں بھی لگانا شروع کر دی ہیں۔ نئی سامنے آنے والی تحقیق میں #سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ڈیلٹا ویریئنٹ کے خدشے کے باوجود وبا کی اس سٹیج پر عام عوام کے لیے بوسٹر خوراک مناسب نہیں ہے۔ اس تحقیق کے محققین میں عالمی ادارہ صحت کے سائنس دان بھی شامل ہیں۔
تحقیق کے محققین نے دیگر سٹڈیز اور کلینکل ٹرائلز کا بھی جائزہ لیا ہے جس سے یہ معلوم ہوا کہ ڈیلٹا ویری ئنٹ سمیت کورونا کی ہر قسم کی شدید علامات کے خلاف بھی ویکسین انتہائی مؤثر رہتی ہے۔تحقیق کی مرکزی مصنف اور عالمی ادارہ صحت کی #سائنسدان اینا ماریو کا کہنا ہے کہ موجودہ اسٹڈیز معتبر ثبوت پیش نہیں کرتیں کہ کسی بھی شدید بیماری کے خلاف تحفظ میں ویکسین کی افادیت کم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں سب سے پہلی ترجیح ان افراد کے لیے ویکسین فراہم کرنے کی ہونی چاہیے جنہیں ابھی تک نہیں لگ سکی۔تحقیق کی مرکزی #مصنف اینا ماریو نے مزید کہا کہ ویکسین جلد ہی کورونا کے مزید ویریئنٹس پیدا ہونے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
فرانس میں عمر رسیدہ افراد اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کو ویکسین کی تیسری خوراک لگانا شروع کر دی ہے جبکہ #اسرائیل میں بارہ اور زیادہ عمر کے بچوں کو دوسری خوراک لگانے کے پانچ ماہ بعد تیسری خوراک لگائی جا رہی ہے۔



