بین الاقوامی خبریں

افغانستان : صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہی کے دہانے پر ہے: عالمی ادارۂ صحت

نیویارک،23ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عالمی ادارہ صحت نے بدھ کو خبردار کیا کہ افغانستان میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے اور عالمی برادری کی جانب سے فوری کارروائی کے بغیر اس ملک کے عوام کو انسانی تباہی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس ہفتے کے شروع میں، ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئس اور مشرقی بحیرہ روم کے لیے عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر احمد المدھاری نے کابل میں وزیر محمد اکبر خان کے ہمراہ نیشنل اسپتال کا دورہ کیا۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

یہ وہ شفاخانہ ہے جس کے طبی عملے نے دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے پر انخلا کے دوران ایک دہشت گرد حملے میں زخمی ہونے والے کئی لوگوں کا علاج کیا تھا۔بدھ کے روز ایک پریس ریلیز میں، ٹیڈروس نے کہا کہ اس دورے سے صحت کے عالمی ادارے کو یہ موقع ملا کہ وہ افغان عوام کی فوری ضروریات کا جائزہ لے سکے اور متعلقہ عہدے داروں سے مل کر یہ تعین کر سکے کہ ڈبلیو ایچ او کس طرح ان کی مدد کر سکتا ہے۔

بیان میں، ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے سب سے بڑے منصوبے، صحت مندی پروجیکٹ کے لیے بین الاقوامی عطیات دہندگان کی مدد میں کمی سے ہزاروں افراد کے لیے صحت کی سہولیات، طبی ساز و سامان اور صحت کے عملے کی تنخواہوں کے مالی وسائل کو دھچکہ لگا ہے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ صحت مندی پراجیکٹ کی صحت کی سہولیات کا صرف 17 فیصد فعال ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے شعبوں نے اب اپنی سرگرمیاں محدود یا بند کر دی ہیں، علاج معالجہ کرنے والا طبی عملہ فنڈز کی کمی کے باعث یہ فیصلے کرنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ کس کا علاج کرنا ہے اور کس کو دوا کے بغیر مرنے کے لیے چھوڑ دینا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button