بیت المقدس میں فلسطینیوں کیلئے امریکی قونصل خانے کی کوئی گنجائش نہیں: اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ
مقبوضہ بیت المقدس،7نومبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ Israeli Pm Naftali Bennett کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی انتظامیہ کو واضح کر دیا ہے کہ و ہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے لیے امریکی قونصل خانہ کھولے جانیکی مخالفت کریں گے۔بینیٹ نے یہ بات ہفتے کے روز وزیر خارجہ یائر لیپڈ اور وزیر خزانہ ایوگڈور لیبرمین کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
بینیٹ کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے کام آنے والے امریکی قونصل خانے کی کوئی جگہ نہیں ، بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق اس موقع پر وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے یہ تجویز پیش کی کہ امریکی قونصل خانے کو دوبارہ مغربی کنارے کے شہر راملہ میں فلسطینی حکومت کے کمپاؤنڈ میں کھولا جائے۔
ادھر راملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے لیپڈ کا بیان مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم صرف اس بات کو قبول کریں گے کہ امریکی قونصل خانہ بیت المقدس میں ہو جو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے ۔
امریکی انتظامیہ نے اسی کا اعلان کیا تھا اور وہ اس پر عمل کی پابند ہے۔مئی 2018میں کھولا جانے والا امریکی قونصل خانہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی رابطے کا مرکز تھا۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد قونصل خانے کا درجہ کم کر کے اسے فلسطینی امور کا یونٹ بنا کر بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے میں ضم کر دیا گیا تھا۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلینکن نے اکتوبر میں ایک بار پھر باور کرایا تھا کہ قونصل خانے کا دوبارہ کھولا جانا فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ البتہ بلینکن نے اس حوالے سے کوئی نظام الاوقات کا تعین نہیں کیا۔
اکتوبر میں ہی فلسطینی صدر محمود عباس نے فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس میں امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ فلسطینیوں کے لیے اپنے تمام وعدوں پر عمل درامد کرے جن میں سرفہرست بیت المقدس میں امریکی قونصل خانے کا دوبارہ کھولا جانا ہے۔
اس کے علاوہ واشنگٹن میں تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے نمائندہ مشن کا دوبارہ کھولا جانا اور اس مالی محاصرے کو ختم کرنا شامل ہے جو سابقہ انتظامیہ نے فلسطینی قومی اتھارٹی اور فلسطینی عوام پر عائد کیا تھا۔



