بین الاقوامی خبریں

اومیکرون کیسز میں اضافہ، ایک اور طوفان اٹھتا دکھائی دے رہا ہے

لندن ،22دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کورونا وائرس کے اومیکرون ویریئنٹ کے یورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں تیزی سے پھیلاؤ کے بعد مختلف ممالک نے وائرس کی ایک اور خطرناک لہر سے نمٹنے کے لیے کمر کس لی ہے۔ نیوز کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے یورپی سربراہ ہانس کلوگ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ایک اور طوفان اٹھتا نظر آ رہا ہے۔انہوں نے یورپی ممالک کو کورونا وائرس کے کیسز میں ’خاطر خواہ اضافے‘ کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی اقسام میں سے جلد ہی اومی کرون سب سے نمایاں ویریئنٹ ہوگا جو مختلف ممالک کا نظامِ صحت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔

جرمنی، اسکاٹ لینڈ، ایئرلینڈ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہے جنہوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے یا پھر سماجی فاصلہ رکھنے کی احتیاطی تدابیر کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔علاوہ ازیں جاپان کے ایک فوجی اڈے میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 180 ہوگئی ہے۔

تمام مریضوں کا تعلق ایک ہی کلسٹر سے ہے، یعنی ان سب کو وائرس لگنے کا ذریعہ ایک ہی ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارت میں 99 فیصد آبادی ویکسین شدہ ہے اور کئی افراد کو بوسٹر خوراکوں کی آفر دی جا چکی ہے۔ تاہم ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 452 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اس نوعیت کا اضافہ ستمبر کے وسط سے اب تک نہیں دیکھا گیا تھا۔ایک ہفتہ قبل امارات میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی تھی، ایک دن میں 50 کیسز رپورٹ کیے جا رہے تھے۔ کیسز کی کمی سے یہ تاثر پایا گیا کہ وبا کا مشکل دور ختم ہوگیا ہے اور زندگی معمول پر لائی جا سکتی ہے۔

جرمنی،اسکاٹ لینڈ، ایئرلینڈ، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہے جنہوں نے جزوی یا مکمل لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے یا پھر سماجی فاصلہ رکھنے کی احتیاطی تدابیر کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ سکاٹ لینڈ میں حکومتی سربراہ نکلولا سٹرجن نے نئے سال کے موقع پر ایڈن برا میں منعقد ہونے والی تقریب منسوخ کردی ہے اور لوگوں کو فٹبال کے میچوں پر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button