پیرس ،29دسمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فرانس میں حکام نے شمالی حصے میں واقع مسجد کے امام پر بنیاد پرستی کا الزام لگا کر مسجد کو تالا لگا دیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق پیرس کے شمال میں 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع 50 ہزارلوگوں پر مشتمل قصبہ بوویس میں مسجد کو 6 ماہ کے لیے بند کرنے کا حکم دیا گیا۔اس ضمن میں فرانسیسی حکام نے الزام لگایا کہ مسجد میں دیئے جانے والے خطبات نفرت، تشدد اور مبینہ جہاد کا دفاع پر مبنی تھے۔
مسجد میں 400 افراد پر مشتمل اجتماع کی گنجائش ہے اور مسجد پر پابندی سے متعلق فیصلہ وزیر داخلہ جیرالڈ ڈرامینین کے 2 ہفتے قبل ایک بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ مسجد کو بند کرنے کا طریقہ کار شروع کیا ہے کیونکہ وہاں کا امام اپنے خطبات میں مبینہ طور پر عیسائیوں اور غیر فطری عمل کے مرتکبین ہم جنس پرستوں نیز یہودیوں کو نشانہ بناتے ہیں ،جو ناقابل قبول ہے۔
مقامی حکام قانونی طور پر کارروائی کرنے سے پہلے 10 دن کی معلومات اکٹھی کرنے کے پابند تھے، لیکن غیرملکی خبررساں ادارے کو بتایا گیا کہ مسجد اب دو دن کے اندر بند کر دی جائے گی۔



