ورلڈبنک کی عالمی ترقی میں تیزی سے سست روی،غریب ممالک میں معاشی ابتری کی پیشین گوئی
لندن، 16 جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عالمی بنک نے امریکہ، یوروپ کے خطے اور چین میں اقتصادی ترقی میں سست روی کی پیشین گوئی کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی بلند سطح، آمدن اور اخراجات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اورکرونا وائرس کی نئی اقسام سے ترقی پذیرمعیشتوں کی بحالی کو خطرہ لاحق ہے۔ عالمی بنک نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہاہے کہ 2022 میں عالمی معیشت کی شرح نمو گذشتہ سال کے 5.5 فی صد سے واضح طور پرکم ہوکر 4.1 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2023 میں مزید کم ہو کر 3.2 فی صد رہ جائے گی کیونکہ تب حکومتیں وبا کے آغاز میں مہیا کی جانے والی بڑے پیمانے پرمالی امداد کو ختم کرچکی ہوں گی۔
عالمی بنک نے اقتصادی منظرنامے کی یہ پیشین گوئی 2021اور 2022 کیلئے کی ہے۔ یہ کسی بڑے بین الاقوامی ادارے کی طرف سے کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں پہلی پیشین گوئی تھی۔توقع ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) 25 جنوری کو اپنی اپ ڈیٹ میں شرح نمو سے متعلق پیشین گوئیوں کرے گا اور وہ بھی شرح نمومیں کمی کا اعلان کرے گا۔
عالمی بنک کی تازہ نیم سالانہ پیشین گوئی میں 2020میں معیشتوں میں سکڑاؤ کے بعد2021 میں ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں میں اقتصادی سرگرمیوں میں بڑی تیزی کا حوالہ دیا گیا تھا لیکن خبردارکیا گیا تھا کہ طویل عرصے تک افراطِ زر،سپلائی چین اورافرادی قوت کے مسائل اور کرونا وائرس کی نئی اقسام کی وجہ سے دنیا بھر میں ترقی میں کمی کا امکان ہے۔
عالمی بنک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے غربت، غذائیت اور صحت کے اعدادوشمارمیں پریشان کن الٹ پھیر اور اسکولوں کی بندش سے مستقل اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسی نیشن کی کم شرح، عالمی میکروپالیسیوں اور قرضوں کے بوجھ سے متعلق شدید طویل مدتی مسائل کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں 10 سال کی عمر تک کے سترفی صد بچے بنیادی کہانی نہیں پڑھ سکتے۔ یہ شرح پہلے 53 فی صد تھی۔عالمی بنک کی رپورٹ کے مصنف ایہان کوسے نے رائٹرزکو بتایا کہ کرونا وائرس کے انتہائی متعدی اومیکرون متغیّر کے تیزی سے پھیلنے سے ترقی کے عمل میں مسلسل رکاوٹ کا پتا چلتا ہے اورکہا گیا ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مغلوب کرنے والا اضافہ عالمی پیشین گوئی سے مزید 0.7 فی صد پوائنٹ تک دستک دے سکتا ہے۔
مالپاس نے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کے درمیان شرح نمو میں بڑھتے ہوئے تفاوت کا ذکرکیا ہے۔اس کے بارے میں عالمی بنک کے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس سے سماجی کشیدگی اور بدامنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔کوسے نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ ان کی محدود اختیارات کے پیش نظر ضروری مالی امداد مہیا کی جاسکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مسلسل افراط زر کا دباؤاور مالی کمزوریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔
رپورٹ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ترقی یافتہ معیشتوں میں شرح نمو 2022 میں کم ہوکر 3.8 فی صد رہ جائے گی۔یہ 2021 میں 5 فی صد تھی اور2023 میں یہ شرح مزید کم ہو کر 2.3 فی صد ہو جائے گی۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی پیداوار اور سرمایہ کاری اب بھی 2023 تک اپنے وبا سے پہلے کے رجحان میں واپس آ جائے گی۔



