بین الاقوامی خبریں

طالبان کی واپسی نے افغان خواتین کی زندگی کیسے بدل کر رکھ دی؟

کابل،20فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغانستان میں طالبان کی موجودہ حکومت میں بھی خواتین کئی حقوق سے محروم دکھائی دیتی ہیں۔ افغانستان پر سن 2021 کے ماہ اگست میں طالبان نے حکومتی عمل داری قائم کی تھی۔گزشتہ برس افغانستان میں سے امریکی اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی افواج کے اچانک انخلا کے بعد طالبان نے سارے ملک پر بڑی تیزی کے ساتھ قبضہ کرتے ہوئے کابل پر اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔

اس حکومت میں طالبان کا رویہ سابقہ حکومت کے مقابلے میں بہت نرم دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے گزشتہ حکومت کی طرح سخت شرعی احکامات کا نفاذ ابھی نہیں کیا۔ سابقہ حکومت میں خواتین تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دی گئی تھیں لیکن اس مرتبہ ان کا رویہ خاصا مختلف ہے۔

انہوں نے بعض محکموں میں صوبائی سطح پر خواتین کے لیے کام کرنے کے رہنما اصول ضرور معین کیے ہیں۔طالبان کا موجودہ حکومت میں کہنا ہے کہ وہ خواتین کو کام کرنے کی اجازت دیتے کو تیار ہیں لیکن انہیں مردوں کے پہلو بہ پہلو کام نہیں کرنے دیا جا سکتا۔

عملی طور پر ابھی تک خواتین حکومتی اداروں میں ملازمت اختیار کرنے سے محروم ہیں۔ انہیں پیشہ ورانہ مہارت کے شعبوں میں فی الحال کام کی اجازت ہے اور ان شعبوں میں طبی نگہداشت اور تعلیم شامل ہیں۔نجی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں دفتر جاتے اور آتے ہوئے مبینہ طور پر ہراسگی کا سامنا ہے۔

ایسے نجی اداروں میں طالبان کے خفیہ ایجنٹ بھی اچانک چھاپے مار کر دیکھتے ہیں کہ خواتین مردوں سے علیحدہ کام کرتی ہیں یا نہیں۔ بعض اداروں میں سے خواتین کو احتیاط کے تناظر میں نوکری سے فارغ بھی کر دیا گیا ہے۔

بعض مقامات پر خواتین کے چھوٹے چھوٹے گروپ مخصوص ملازمتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں کچھ کوآپریٹو ادارے بھی شامل ہیں، جیسا کہ یاسمین کے پھولوں کی پراسسنگ اور ان کا چننا وغیرہ۔ یہ کام افغان صوبے ہرات میں خواتین کرتی ہیں۔

ہرات کا شہر افغان معاشرتی معیارات کے مطابق برسوں سے کسی حد تک لبرل بھی خیال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی حکومت میں ابھی بھی ہزاروں خواتین ملازمتوں سے محروم ہیں۔ سابقہ حکومت میں یہ خواتین پولیس اور عدالتوں میں بھی روزگار حاصل کیے ہوئے تھیں۔

طالبان نے یہ ضرور کہا ہے کہ تعلیم لڑکیاں حاصل کر سکتی ہیں لیکن 13 سے 18 برس کی لڑکیوں کے اسکینڈری اسکولز گزشتہ برس اگست سے بند ہیں اور ابھی تک کھولے نہیں گئے۔

اب طالبان حکام نے کہا ہے کہ رواں برس مارچ کے آخر تک سبھی اسکول کھول دیے جائیں گے۔اس تناظر میں اسکولوں کے بیشتر اساتذہ کی بیرون ممالک ہجرت اور لڑکیوں کے اسکولوں میں مرد ٹیچروں کے پڑھانے کی ممانعت سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ مارچ میں بھی لڑکیوں کے تمام اسکول کھولنا ممکن نہیں ہو گا۔

دوسری جانب افغانستان کے قریب قریب سبھی نمایاں گلوکار، موسیقار، فنکار اور فوٹوگرافر طالبان کی واپسی کے وقت ملک چھوڑ چکے ہیں۔ فنون لطیفہ سے منسلک جو باقی بچے کھچے افراد ملک میں رہ گئے ہیں، وہ روپوشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button