کیف؍لندن،28فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرائن پر روسی فوج کے حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے الگ الگ ہنگامی اجلاس ہو رہے ہیں۔ یوکرائنی صدر کا کہنا ہے کہ اگلے چوبیس گھنٹے ان کے ملک کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرائن کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے بورس جانسن سے ٹیلی فون پر بات کی اور انہیں بتایا کہ اگلے چوبیس گھنٹے یوکرائن کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ جانسن نے زیلنسکی کو یقین دہانی کرائی کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی اس بات کی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ دفاعی امداد کسی بھی صورت میں یوکرائن پہنچ سکے۔وولودومیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روسی جارحیت کے نتیجے میں کئی اہم شہروں میں جاری جنگ کے باوجود وہ صدر ولادیمیر پوٹن سے امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ گو کہ مجھے میٹنگ کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع نہیں، تاہم ہم کوشش کرتے ہیں۔دونوں ملکوں کے مندوبین پیر کے روز کسی شرط کے بغیر یوکرائن۔ بیلاروس کی سرحد پر ملاقات کریں گے۔ اس سے قبل زیلنسکی نے یہ کہتے ہوئے بات چیت سے انکار کردیا تھا کہ روس نے ان کے ملک پر حملہ کیا ہے۔
روس کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے یوکرائنی صدر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب ولادیمیر پوٹن کے بیان سے مغرب کے ساتھ روس کے نیوکلیائی جنگ کاخدشہ لاحق ہو گیا ہے۔مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے جارحانہ بیانات اور سخت اقتصادی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوٹن نے روس کے جوہری ہتھیاروں کو تیار رکھنے کا حکم دیا ہے۔
جس کی وجہ سے یہ خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ یوکرائن پر حملے کے نتیجے میں کہیں ارادتاً یا غلطی سے جوہری جنگ شروع نہ ہوجائے۔امریکی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ روسی رہنما نے فورسز کو ایک ایسی حالت میں ڈال دیا ہے کہ اگر اندازے کی ذرا سی بھی غلطی ہوئی تو حالات بہت زیادہ بلکہ انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں۔
یوکرائن کی وزارت صحت نے بتایا کہ جمعرات کو شروع ہونے والی روس کی فوجی کارروائی کے بعد سے اب تک 352 شہری ہلاک ہوچکے ہے، جن میں 14 بچے شامل ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک 1684 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں 116بچے شامل ہیں۔
ادھر یوکرائن کی فوج نے کہا کہ اتوار کا دن فوجیوں کے لیے کافی ‘مشکل وقت’ تھا۔ اس نے بتایا کہ روس کے فوجی دستوں نے تقریبا ً ہر سمت سے حملے کیے۔اطلاعات کے مطابق روسی فوج نے ملک کی جنوبی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا ہے۔



