تہران ،8مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران کی محافظین انقلاب اسلامی کور کے مطابق تہران نے اپنا دوسرا فوجی سیٹلائٹ نور دوم Nour-2 خلا میں بھیج دیا ہے۔ یہ فوجی سیٹلائٹ ایک ایسے وقت پر خلا میں بھیجا گیا ہے، جب ویانا میں ایرانی جوہری مذاکرات ایک نازک مرحلے میں ہیں۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے منگل آٹھ مارچ کے روز بتایا کہ اس فوجی سیٹلائٹ کے خلا میں بھیجے جانے کی تصدیق ملک کی محافظین انقلاب اسلامی کور (IRGC) کی طرف سے کی گئی۔
یہ ایرانی سیٹلائٹ اب زمین سے 500 کلومیٹر (311 میل) کی بلندی پر خلا میں اپنے مدار میں پہنچ چکا ہے اور گردش میں ہے۔ایران نے اپنا پہلا فوجی سیٹلائٹ نور اول اپریل 2020میں خلا میں بھیجا تھا اور وہ بھی اس وقت زمین سے 425 کلومیٹر (265 میل) کی بلندی پر اپنے مدار میں گردش میں ہے۔
خبر ایجنسی روئٹرز نے اپنی رپورٹوں میں لکھا ہے کہ ایران کی طرف سے فوجی نوعیت کا یہ دوسرا سیٹلائٹ خلا میں بھیجا جانا ملکی مسلح افواج کے لیے ایک بڑی عسکری پیش رفت ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ہی یہ اس لیے بھی تشویش کا باعث بن سکتا ہے کہ تہران کے جوہری اور میزائل پروگراموں سے متعلق بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی شبہات پائے جاتے ہیں اور تہران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے ویانا میں ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین بات چیت بھی اس وقت بہت نازک مرحلے میں ہے۔
ایران کے دیرینہ حریف ملک امریکہ میں فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران اپنے ایسے فوجی سیٹ لائٹس کو خلا میں بھیجنے کے لیے طویل فاصلے تک رسائی کو یقینی بنانے والی جس بیلسٹک ٹیکنالوجی کا استعمال کر ر ہا ہے،
اسی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بھی بنا سکتا ہے اور ان پر ممکنہ طور پر ایٹمی وار ہیڈز بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ایسے امریکی دعووں کی تردید کرتے ہوئے ایران کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے سیٹلائٹ پروگرام کے پس پردہ کوئی بیلسٹک میزائل تیار نہیں کر رہا اور اس نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوئی کوشش تو آج تک کی ہی نہیں۔
ایران ایک ایسا ملک ہے، جسے مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑے میزائل پروگراموں والے ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں کے دوران تہران کی مختلف سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کی کئی کوششیں تکنیکی وجوہات کی بنا پر ناکام بھی رہی ہیں۔



