بین الاقوامی خبریں

  تیل کی برآ مد پر پابندی لگی تو یورپ کو گیس سپلائی بند کردیں گے: روس

لندن،8مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی لگائی گئی تو اس کے جواب میں جرمنی جانے والی گیس کی مین پائپ لائن کو بند کیا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک مذاکرات پر بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔
روس کا یوکرین پر حملہ دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے لیے سب سے بڑا حملہ ہے، اس کی وجہ سے 17 لاکھ سے زائد یوکرینیوں کو ہجرت کرنا پڑی۔ یوکرین کے شہر سمی پر روس کے فضائی حملے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملوں کے بعد شہروں میں محصور لوگ خوفزدہ ہو گئے ہیں اور دوسرے علاقوں کی طرف جا رہے ہیں۔یوکرینی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کی جانب سے بمباری میں روس کے سینیئر کمانڈر بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔
سمی ان شہروں میں شامل ہے جہاں سے شہریوں کو محفوظ انخلا کی آج اجازت دی جانی تھی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی ے مطابق یوکرین کی ریسکیو سروس کا کہنا ہے کہ پیر کو رات گئے دشمن جہازوں نے جان بوجھ کر رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔
حملے کا نشانہ بننے والا سمی شہر روس کی سرحد کے قریب اور دارالحکومت کیف کے مشرق میں 350 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس شہر میں کافی دنوں سے شدید لڑائی جاری ہے تاہم تازہ حملے کے حوالے سے زیادہ معلومات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔
یوکرین کی نائب وزیر اعظم ارینا ویریشچکوف کا کہنا ہے کہ روسی حکام نے منگل کی صبح کوریڈور کے ذریعے لوگوں کے انخلا پر اتفاق کا اظہار کیا تھا اور ریڈ کراس کی کمیٹی کو اس بارے میں خط بھی لکھا تھا۔
خیال رہے کہ روس نے یوکرین پر 24 فروری کو حملہ کر دیا تھا، جس کے بعد سے مسلسل لڑائی جاری ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان عالمی عدالت میں کیس بھی زیر سماعت ہے۔
یوکرین کی جانب سے روس کے حملے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں کیس دائر کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ’نسل کشی کے حوالے سے پوتن کا دعویٰ غلط تشریح پر مبنی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button