انقرہ ،10؍مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ Isaac Herzog کے دورے کو تاریخی اور دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ دونوں ملک بعض امور پر اختلافات کے باوجود باہمی تعلقات کو نئی جہت دینے پر رضامند ہوگئے۔اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ گزشتہ چودہ برس میں ترکی کا دورہ کرنے والے پہلے اسرائیلی رہنما ہیں۔
رجب طیب ایردوآن کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں رہنماوں نے باہمی ملاقات کو اہم اور اطمینان بخش قرار دیا۔ایردوآن نے آئزک ہرزوگ کے دورے کو’تاریخی‘اور ترکی۔ اسرائیل تعلقات میں ایک ’اہم سنگ میل‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔ باہمی تعاون میں اضافہ پر بات چیت کے لیے ترکی کے وزیر خارجہ اور وزیر توانائی جلد ہی اسرائیل کا دورہ کریں گے۔
ایردوآن کا کہنا تھا، ”ہم مشترکہ مفادات اورباہمی حساس معاملات کا احترام کرتے ہوئے دونوں ملکوں (ترکی اوراسرائیل) کے درمیان سیاسی مذاکرات کا آغاز کریں گے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپنے خطے میں امن و سکون کی ثقافت کو مستحکم کرنا اب ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔
ہرزوگ نے کہا کہ ان کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں انتہائی اہم لمحہ ہے اور اس سے دونوں ملکوں کو ”ایک دوسرے کے ساتھ ضروری پل تعمیر کرنے”میں مدد ملے گی۔ترکی اور اسرائیل دونوں ملکوں کے رہنماوں نے اعتراف کیا کہ کئی امور اور بالخصوص فلسطین کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
ایردوآن نے کہا کہ ہم نے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور دو ریاستی حل کے نظریے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت کا اظہار کیا۔ ایردوآن کا کہنا تھاکہ میں نے یروشلم کی تاریخی حیثیت کی اہمیت اور مذہبی شناخت اور مسجد اقصیٰ کے احترام کی حفاظت کی اہمیت پر زور دیا۔
آئزک ہرزوگ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا، ”ہمیں پہلے ہی اس بات سے اتفاق کرلینا چاہئے کہ ہم ہر چیز پر متفق نہیں ہوسکتے۔ یہ اس تعلقات کی نوعیت ہے جس کی ہمارے مابین ایک ثروت مند ماضی رہاہے۔
اسرائیلی صدر کا کہنا تھا کہ لیکن ہمارے درمیان جو اختلافات ہیں انہیں مشترک مستقبل کے مدنظر ایک مناسب میکانزم اور نظام کے ذریعہ باہمی احترام اور کھلے پن کے ساتھ حل کرنے کے خواہاں ہیں۔سن 2007کے بعد اسرائیل کے کسی سربراہ مملکت کا ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے۔
اسرائیلی صدر نے اپنے دورے سے قبل کہا تھا کہ حالیہ برسوں میں بہت سے اتار چڑھاؤ کے بعد ہم ہر بات پر متفق نہیں ہو سکتے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان یکساں احترام کی بنیاد پر انہیں نئے سرے سے استوار کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ترکی اور اسرائیل کے درمیان ایک وقت قریبی تعلقات تھے لیکن سن 2010 میں غزہ کے لیے امدادی اشیاء لے کر جانے والے ترکی کے جہاز ‘فریڈم فلوٹیلا’ پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی۔ اس حملے میں دس ترک کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد ترکی نے اسرائیل کے سفیر کو ملک سے نکال دیا تھا۔ جب سن 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو ترکی نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا اور اس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا۔
اسرائیلی صدر کے حالیہ دورے کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی بحالی میں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ نے صدر ایردوآن سے فون پر بات کی تھی، جو سن 2013کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایسا پہلا رابطہ تھا۔
اردن کی مذہبی جماعتوں کی اسرائیلی صدر کے دورہ ترکی مذمت
اُردن کی سب سے بڑی مذہبی سیاسی جماعت اسلامک ایکشن فرنٹ نے ترکی کی طرف سے اسرائیلی صدرکے استقبال کی مذمت کرتے ہوئے صیہونی دشمن کے ساتھ ہر طرح کی معمول کی روش” کو مسترد کرنے پر زور دیا۔
اسلامک فرنٹ کے عہدیدارایمن ابوالرب نے ایک تحریری پریس بیان میں کہا کہ ترکی میں صیہونی رہنماوں کے استقبال میں خاص طور پرجارحیت اوردہشت گردی میں اضافے کے ساتھ ترکی میں اسرائیلی صدر کا استقبال ناقابل قبول ہے۔
ابو الرب نے ترک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کی کوششیں ترک کرے۔ ہم انقرہ کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ کہ قابض ریاست کے ساتھ تعلقات کے قیام سے کسی عرب یا مسلمان ملک کا کوئی مفاد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے انقرہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ترک عوام اور عرب اور اسلامی ممالک کے لوگوں کے موقف سے ہم آہنگ رہے جو قابض ریاست کو ملک کے پہلے دشمن کے طور پر دیکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے اسرائیلی ہم منصب اسحاق ہرزوگ کا استقبال کیا اور عبرانی میڈیا نے انقرہ کے صدارتی محل میں ہونے والے استقبال کو سفارتی پروٹوکول کے مطابق اعلیٰ ترین قرار دیا۔



